کوئٹہ میں زائرین کا دھرنا، سکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ

آٹھ جون کو صوبہ بلوچستان میں ایرانی سرحد کے قریب علاقے تفتان میں خود کش حملے اور دھماکوں کے نتیجے میں دس عورتوں سمیت 25 زائرین ہلاک ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنآٹھ جون کو صوبہ بلوچستان میں ایرانی سرحد کے قریب علاقے تفتان میں خود کش حملے اور دھماکوں کے نتیجے میں دس عورتوں سمیت 25 زائرین ہلاک ہوئے تھے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد نے کوئٹہ سے بذریعہ روڈ ایران زیارتوں پر جانے کی اجازت نہ ملنے کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا ہوا ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار محمد کاظم نے بتایا کہ مظاہرین نے یہ دھرنا کوئٹہ میں واقع علمدا ر روڈ پر دیا ہوا ہے۔

اس دھرنے کا شرکاء کا تعلق پنجاب اور خیبر پختونخوا سے ہے۔

مظاہرین نے یہ دھرنا حکام کی جانب سے سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر کوئٹہ سے بذریعہ روڈ ایران جانے کی اجازت نہ ملنے کے خلاف دیا ہے۔

بلوچستا ن شیعہ کانفرنس کے صدر داؤد آغا کا کہنا ہے کہ لگ بھگ 700 افراد نے زیارتوں کے ایران اور عراق جانا ہے۔

’یہ افراد 15 سے 20 روز سے انتظار کر رہے ہیں اور ان کے ویزوں کی مدت بھی ختم ہو رہی ہے۔ یہ افراد صوبائی حکومت کی جانب سے این او سی کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ ان کو تفتان تک سکیور ٹی مہیا کی جا سکے۔‘

داؤد آغا کا مزید کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے حکم پر صوبائی حکومت نے این او سی دینا معطل کیا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دھرنا اس لیے دیا ہوا ہے کہ صوبائی حکومت ان کو سکیورٹی مہیا کرے تاکہ یہ افراد زیارتوں پر جا سکیں۔

یاد رہے کہ آٹھ جون کو صوبہ بلوچستان میں ایرانی سرحد کے قریب علاقے تفتان میں خود کش حملے اور دھماکوں کے نتیجے میں دس عورتوں سمیت 25 زائرین ہلاک ہوئے تھے۔

ایران سے متصل سرحدی شہر تفتان میں 300 پاکستانی شیعہ زائرین آئے تھے اور وہ وہاں دو ہوٹلوں میں قیام پذیر تھے۔

رات ساڑھے نو بجے کے قریب دو خودکش حملہ آور ایک ہوٹل میں داخل ہوئے جہاں ان کا سامنا سکیورٹی پر تعینات اہلکار سے ہوا۔ اہلکار کی فائرنگ سے ایک حملہ آور ہلاک ہوگیا جبکہ دوسرے نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔

پہلے حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا تاہم اس حملے کے بعد تین دیگر خود کش حملہ آور دوسرے ہوٹل میں داخل ہوئے۔