’اتنے لوگوں کو مروانے کے بعد ہی آپریشن کیوں؟‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, علی سلمان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہورکے بعض شہریوں کا شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے حوالے خیال ہے کہ یہ آپریشن تاخیر سے شروع ہوا تو بعض نے فوج کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے۔
ایک رکشہ ڈرائیور نے کہا کہ انھیں یہ سمجھ نہیں آیا کہ اتنے لوگوں کو مروانے کے بعد ہی آپریشن کیوں شروع کیا گیا۔ ان کا خیال تھا کہ آپریشن بہت پہلے شروع کر دینا چاہیے تھا۔
تکہ کباب کی دکان کے ملازم محمد یونس نے کہا کہ کسی بھی مسلمان کو گولی مارنا ٹھیک کام نہیں ہے لیکن طالبان نے بھی حد کر دی تھی۔ایک سیاسی جماعت کے کارکن محمد رمضان نے کہا کہ وہ پاک فوج کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور فوج کے لیے ان کا پیغام ہے کہ ’کر گزرو۔‘
عام شہریوں کے علاوہ لاہور میں تقریباً تمام اہم سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن پر اپنا ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔
حکمران مسلم لیگ ن کے پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان نے پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم فوج اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہے۔
انھوں نے کہا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک فوجی آپریشن جاری رہے گا اور پنجاب میں بھی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے ایک اجلاس میں بھی شریک ہوئے تھے۔
اس اجلاس میں صوبائی محکمۂ داخلہ اور پولیس حکام کے علاوہ فوج کے کور کمانڈر لاہور اور ڈی جی رینجرز بھی شریک ہوئے۔ حکومتِ پنجاب کے ترجمان کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ ’دہشت گردی کے ناسور‘ کے خاتمے کا وقت آ چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پیپلز پارٹی کی کی رکن فائزہ ملک نے شمالی وزیر ستان آپریشن کے حق میں ایک قرارداد پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے جوان اپنی جان کی قربانیاں دے رہے ہیں جس پر پاک فوج کے ساتھ اظہار یک جہتی اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
تحریک انصاف نے فوجی آپریشن کی وجہ سے اپنا بہاولپور کا جلسہ منسوخ کر دیا ہے جبکہ طاہر القادری نے ویڈیو لنک کے ذریعے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ فوج کی مدد اور تعاون شرعی طور پر ہر پاکستانی پر فرض ہوگیا ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے منصورہ میں اپنی جماعت کے ایک اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا کہ تشدد اور طاقت کا استعمال، ریاست اور غیر ریاستی عناصر دونوں کی طرف سے حکمت اور دانائی کے خلاف ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ جنگ کے باوجود مذاکرات کےذریعے امن قائم کرنے کا راستہ کھلا رکھا جائے۔
جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید نے فوج کی حمایت کی جبکہ اہلسنت و الجماعت اور کالعدم سپاہ صحابہ کے رہنما احمد لدھیانوی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دونوں فریق اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر ایک دوسرے کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حکومت اور طالبان پاکستان کو خانہ جنگی کی بجائے امن کا گہوارہ بنائیں۔







