شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے بعد نقل مکانی اور ملک میں سکیورٹی سخت
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی جاری ہے اور شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو فضائی طاقت کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شمالی وزیرستان کی جانب سے بنوں کے راستے فوجی قافلے روانہ ہو رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپاکستانی فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ قبائلی ایجنسی شمالی وزیرستان میں طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کامیابی سے جاری ہیں۔
،تصویر کا کیپشنآئی ایس پی آر کے مطابق پیر کی صبح شمالی وزیرستان ایجنسی کے علاقے شوال میں شدت پسندوں کے چھ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
،تصویر کا کیپشنآئی ایس پی آر کے مطابق اتوار کو ہونے والے کامیاب حملوں میں مجموعی طور پر 140 شدت پسند مارے گئے، جن میں اکثریت ازبک باشندوں کی تھی۔
،تصویر کا کیپشنفوج کے مطابق آپریشن منصوبے کے مطابق چل رہا ہے اور تاحال کسی بھی شہری آبادی والے علاقے میں حملے نہیں کیے گئے۔
،تصویر کا کیپشنآئی ایس پی آر کے مطابق فوجی دستوں نے شدت پسندوں کے تمام ٹھکانوں کا گھیراؤ کیا ہے جن میں میر علی اور میران شاہ کے قصبے شامل ہیں۔
،تصویر کا کیپشنآئی ایس پی آر کے مطابق ایجنسی سے مطابق مقامی آبادی کےمنظم اور باوقار انخلا کے لیے مختص مقامات کے بارے میں اعلان کیا جائے گا۔
،تصویر کا کیپشنشمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے لوگ درہ آدم خیل کے قریب سے گزر رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان سے فوجی آپریشن سے پہلے ہی نقل مکانی جاری تھی۔
،تصویر کا کیپشندوسری جانب بنوں میں نقل مکانی کرنے والوں کے لیے عارصی کیمپ لگانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنفوجی کارروائی اور غیر قانونی تنظیم تحریک طالبان کی جانب سے جوابی کارروائیوں کی دھمکی کے بعد ملک بھر میں سکیورٹی کے اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبڑے شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں پر جانچ پڑتال بڑھا دی گئی ہے اور حساس مقامات اور عمارتوں کی نگرانی بھی سخت کر دی گئی ہے۔