آدم خور بھائیوں کو 12، 12 برس قید کی سزا

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, علی سلمان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا کی انسداد دہشت گردی عدالت نے انسانی لاشیں کھانے کے الزام میں دو بھائیوں عارف اور عرفان کو 12، 12 برس قید کی سزا سنائی ہے۔
ان دونوں بھائیوں کو میانوالی سینٹرل جیل بھجوا دیا گیا ہے جہاں وہ یہ سزا کاٹیں گے۔
یہ دونوں بھائی قبروں سے مردے نکال کر کھانے کےالزام میں اس سے پہلے بھی دوسال جیل کاٹ چکے ہیں لیکن اس سال اپریل میں دوبارہ گرفتار ہونے کے بعد تھانہ صدر دریا خان پولیس نے ان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ، قبروں کی بےحرمتی، مذہبی جذبات کی توہین اور اندیشۂ نقصِ امن کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
35 سے 40 برس عمر کے یہ دونوں بھائی اس سال اپریل میں جب گرفتار ہوئے تو ان کے گھر سے ایک بچے سر برآمد ہوا جس کا جسم پولیس کے بقول یہ دونوں بھائی پکا کر کھا چکے تھے۔ پولیس نے چھاپہ اس لیے مارا تھا کہ ان کے گھر سے سڑے ہوئے گوشت کی بدبو آرہی تھی۔
سنہ 2011 میں ایک عورت کی لاش کو پکا کر کھانے کے الزام میں گرفتار ہوئے تھے اس وقت عورت کی ادھ کھائی لاش اور انسانی گوشت کا سالن برآمد ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAP
پولیس نے ملزمان کے گھر سے جانوروں کی ہڈیاں بھی برآمد کی ہیں۔ پولیس کی تفتیش کے مطابق ملزموں کو جب انسانی لاشیں نہیں ملتی تھیں تو وہ مردار کتے اور بلیاں پکا کر کھاتے تھے۔
جنوبی پنجاب کے دورافتادہ اور پسماندہ ضلع بھکر کے قصبے دریا خان کے مقامی صحافی کے مطابق ان دونوں بھائیوں کے خلاف عام شہریوں میں غم و غصے کے جذبات پائے جاتے ہیں اور ان ملزموں کے خلاف عدالت میں ان کے ہمسائیوں نے بھی شہادتیں قلمبند کرائی تھیں۔ تفتیش کے مطابق ملزمان نے اعتراف کیا تھا کہ وہ چار سال سے قبروں سے مردے نکال کر کھا رہے ہیں۔
دونوں ملزم شادی شدہ ہیں لیکن ان کے بیوی بچے انھیں چھوڑ چکے ہیں۔ ملزم عارف نے پولیس کو بتایا کہ ان کے بچپن میں ان کے والد نے ان کی ماں کو قتل کر دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی میڈیا ملزموں سے بات کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن ملزم ان سے مختلف اور بے ربط باتیں کرتے رہے۔ کبھی کہتے کہ انھیں مخالفین نے پھنسایا ہے، کبھی کہتے کہ بچے کا سر اپنی آنکھوں سے چھونے کے لیے قبر سےنکال کر لائے تھے۔
پاکستان میں کالے جادو کے لیے قبریں کھود کر مردوں کی تذلیل کے واقعات اکثر سننے میں آتے ہیں لیکن انسانی گوشت کھانے کا یہ اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے جو منظر عام پر آیا ہے۔







