محفوظ جگہ موت کا سبب بن گئی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام،کراچی
کراچی ایئرپورٹ کے کارگو ٹرمینل میں جھلس کے ہلاک ہونے والے ساتوں ملازمین نے ایک گودام کو محفوظ جگہ سمجھ کر پناہ حاصل کی تھی لیکن بعد میں یہی فیصلہ ان کی زندگی لے بیٹھا۔
اتوار کی شب ہوائی اڈے پر حملے کے دوران حملہ آوروں نے کارگو ٹرمینل پر راکٹوں سے حملہ کیا تھا جس کی وجہ سے وہاں آگ لگ گئی۔اس شدید آگ پر پیر کی دوپہر قابو پایاگیا۔
میڈیا پر اس مقام کو کولڈ سٹوریج کہا گیا ہے تاہم سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ یہ کولڈ سٹوریج نہیں بلکہ اس سے ملحق گودام تھا۔
24 گھنٹوں کے بعد لواحقین کے احتجاج پر دوبارہ تلاش کی گئی اور صبح چار بجے کے قریب ملبے سے ساتوں لاشوں کو برآمد کیا گیا جن میں سے کچھ ناقابل شناخت ہیں۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد کے مطابق ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا جس میں چند روز لگ سکتے ہیں۔
پیر کی دوپہر جب لاپتہ سیف اللہ کی والدہ اور کزن سر خان سے بات ہوئی تھی تو وہ اس وقت سیف اللہ کی تلاش میں تھے اور 24 گھنٹوں کے بعد سر خان سے رابطہ ہوا تو وہ اپنے کزن کی تدفین کر کے قبرستان سے نکل رہے تھے۔ وہ صرف اتنی بات کر سکے کہ لاش بری طرح جھلس چکی تھی۔
اس سے پہلے پیر کو سیف اللہ کی والدہ شاہین نے بتایا تھا کہ ان کا بیٹے سے حملے والی رات رابطہ ہوا تھا اور اس نے کہا تھا کہ اب وہ ٹیلیفون نہیں کریں گے کیونکہ فون کی روشنی پر حملہ آور آ سکتے ہیں۔
ہلاک ہونے والے عنایت شاہد کا بھی اپنے چچا شاہد خان سے اسی وقت یعنی ساڑھے 11 بجے رابطہ ہوا اور اس نے انھیں بتایا کہ ان کے آفس پر حملہ ہوگیا ہے، گولیاں اور راکٹ چل رہے ہیں اور وہ آفس کے عقب میں واقع کولڈ سٹوریج میں موجود ہیں۔ جس کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

،تصویر کا ذریعہAP
شاہد خان بتاتے ہیں کہ پیر کی صبح وہ ٹرمینل ون گئے اور عنایت کے بارے میں معلوم کیا تو انھیں بتایا گیا کہ کچھ ملازمین کو ایجنسیاں لے گئی ہیں۔ ایک شخص نے تصدیق کی کہ اس نے عنایت کو اندر دیکھا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
32 سالہ عنایت شاہد گذشتہ آٹھ سالوں سے کارگو کمپنی کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ شاہد خان نے بتایا کہ لاش بری طرح سے جھلس چکی تھی۔ انھوں نے اس کے لمبے قد اور تصویر سے شناخت کی۔ بقول ان کے کمپنی کا شناختی کارڈ پورا جل گیا تھا لیکن جہاں تصویر لگی ہوئی تھی وہ حصہ سینے سے چپکا ہوا تھا جس سے شناخت میں آسانی ہوئی۔
ہمایوں خان کا اپنے بھائی نصیر خان سے رات کو چار بجے آخری رابطہ ہوا۔ اس نے انھیں بتایا کہ آس پاس فائرنگ ہو رہی ہے اور ہر طرف خطرہ ہے لیکن وہ محفوظ جگہ پہنچ چکے ہیں اور اب کوئی مسئلہ نہیں۔ اس کے بعد رابطہ منقطع ہوگیا۔
ہمایوں خان کے مطابق پہلے نصیر کا ٹیلی فون مصروف تھا اور اس کے بعد بند ہوگیا، لیکن اس کے باوجود بھی وہ اس امید پر مسلسل رابطے کی کوشش کرتے رہے کہ شاید فون آن ہو جائے۔
42 سالہ نصیر خان گذشتہ پانچ سالوں سے کارگو کمپنی میں ملازم تھے۔ ان کے سات بچے ہیں۔ ہمایوں خان کے مطابق نصیر کی موت دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی ہے، جبکہ لاش سلامت ہے۔ صرف ان کے پیر جھلس گئے تھے۔







