ایئرپورٹ حملہ: مزید سات افراد کی لاشیں برآمد

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اتوار کی شب حملے کے بعد وہاں ایک کولڈ سٹوریج میں پھنسے سات افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کے ریسکیو حکام کے حوالے سے بتایا کہ یہ لاشیں ایک کمرے کے ملبے تلے سے ملی ہیں جنھیں منگل کی صبح وہاں سے نکلا گیا۔ ان لاشوں کو جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ان افراد نے ایئرپورٹ پر حملے کے بعد اس کولڈ سٹوریج میں پناہ لی تھی۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ ریسکیو آپریشن تقریباً 27 گھنٹے تک رہا اور پاکستان کی فوج کے ایک دستے نے بھی اس امدادی کارروائی میں حصہ لیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا تھا کہ جھلسنے کی وجہ سے لاشوں کی شناخت میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
اس سے پہلے پیر کو سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ فائر فائٹروں کی طرف سے کارگو بلڈنگ کو ہر طرح سے کلیئر کیا گیا ہے اور اس دوران ’کارگو بلڈنگ میں کسی قسم کے زندگی کے آثار موجود نہیں تھے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ متاثرہ جگہ پر کچھ کمرے مخدوش حالات میں ہیں جنھیں گرانے کے لیے آرمی کی مشینری کام کر رہی ہے۔
ادھر پیر ہی کو پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ کراچی ایئر پورٹ پر شدت پسندوں کے حملے میں اے ایس ایف کے 11 اہلکاروں سمیت 19 افراد ہلاک اور 29 زخمی ہوئے جبکہ تین طیاروں کو جزوی نقصان پہنچا جو قابل مرمت ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو اتوار کی رات بھر جاری رہنے والے آپریشن کے بعد پیر کو عوام کے لیے کھول دیا گیا تھا۔
ہوائی اڈے پر یہ حملہ اتوار کی شب مقامی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے دس بجے کے قریب کیا گیا۔صورتِ حال کو قابو میں لانے کے لیے فوج نے بھی رینجرز اور سکیورٹی فورسز کی مدد کی۔
کراچی کے ہوائی اڈے سے چند کلومیٹر دور پاکستانی بحریہ کا مہران بیس موجود ہے جس پر ماضی میں ایک بڑا دہشت گرد حملہ ہو چکا ہے۔
22 مئی سنہ 2011 کو بحریہ کے بیس پی این ایس مہران پر حملے میں دس اہلکار اور حملہ کرنے والے دہشت گردوں میں سے تین ہلاک ہوئے تھے۔







