’ضمانت کی شرائط میں سفر پر پابندی نہیں‘

الطاف حسین کی گرفتاری کے خلاف پاکستان میں ایم کیو ایم نے دھرنے دیے تھے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنالطاف حسین کی گرفتاری کے خلاف پاکستان میں ایم کیو ایم نے دھرنے دیے تھے
    • مصنف, عادل شاہ زیب
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما مصطفیٰ عزیز آبادی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ الطاف حسین کی ضمانت کی شرائط میں کوئی سفری پابندی عائد نہیں کی گئی۔

<link type="page"><caption> پاکستان کو الطاف حسین تک رسائی مل گئی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/06/140605_karachi_life_normalized_rk.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’کارکن پرامن رہیں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/06/140604_pak_altaf_access_ra.shtml" platform="highweb"/></link><link type="page"><caption> ،</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/06/140604_pak_altaf_access_ra.shtml" platform="highweb"/></link><link type="page"><caption> ‘ الطاف حسین کا ہسپتال سے فون</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/06/140604_pak_altaf_access_ra.shtml" platform="highweb"/></link>

الطاف حسین کو پاکستانی پاسپورٹ ملنے کے بعد ان کے پاکستان جانے سے متعلق مصطفیٰ عزیز آبادی نے کہا کہ الطاف حسین کا ابھی پاکستان جانے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔

دریں اثنا متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جمہوریت پر یقین رکھنے والی ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہونے کے ناطے الطاف حسین کو پوری طرح علم ہے منی لانڈرنگ کیس میں جاری تحقیقات ایک جائز عمل کا حصہ ہے اور ایک جمہوری ملک میں مکمل طور پر عام رویہ ہے۔

ان تحقیقات کے دوران الطاف حسین نے پاکستان اور پاکستان کے باہر دنیا بھر میں اپنی جماعتوں کے کارکنوں اور ہمدردوں سے پرامن رہنے اور صبر سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔

اس بیان نے ایم کیو ایم نے کہا کہ وہ پولیس کے شکر گزار ہیں کہ حراست میں بھی الطاف حسین کو اعلی معیار کی طبی سہولیات مہیا کی گئیں۔

ایم کیو ایم نے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں اور خاص طور پر ایم کیو ایم کے کارکنوں اور ہمدردوں کا الطاف حسین کی غیر متزلزل حمایت اور محبت کا اظہار کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

بیان میں برطانوی حکم سے اس معاملے کے ختم ہونے تک مکمل تعاون کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی۔