’مبارک ہو بھائی باہر آ گئے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عادل شاہ زیب
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
سدرک پولیس سٹیشن ڈھونڈتے ڈھونڈتے جب باروع ہائی سٹریٹ کے قریب پہنچا تو ایم کیو ایم کے افسردہ قائدین اور کارکنان کے چہروں پر مایوسی دور سے عیاں تھی۔
دائیں بائیں نظر ڈالنے کے بعد دفتر فون کر کے پولیس سٹیشن کے سامنے فٹ پاتھ پر ٹہلتے ہوئے وہاں کے ماحول کے بارے میں تازہ معلومات فراہم کر ہی رہا تھا کہ ٹیریز ریسٹورینٹ میں موجود ایم کیو ایم کےرہنماؤں بابر غوری، فروغ نسیم اور مصطفیٰ عزیز آبادی پر نظر پڑی۔
فون سے فارغ ہوتے ہی ان سے مصحافہ کرنے اندر چلا گیا. ویسے تو جمعے کی شام ایسے ریسٹورانٹس میں کافی رونق ہوتی ہے لیکن ٹیریز میں موجود ایم کیو ایم کےرہنماؤں کی کیفیت ویسی ہی تھی جیسی کہ آپریشن تھیٹر کے باہر انتظار میں کھڑے مرتے ہوئے مریض کے رشتہ داروں کی ہوتی ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے پوچھے گئے ہر سوال کا صرف یہی جواب ملا کہ بس دعا کریں. ریسٹورانٹ سے متصل مونا گرل شاپ میں کوریج کے لیے آنے والے صحافی بھی بے چینی سے کسی بڑی خبر کا انتظار کر رہے تھے۔
شام ڈھلنے کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے اضطراب کی کیفیت میں بھی اضافہ ہوتا گیا. خواجہ اظہار الحسن نے بے چینی میں پولیس سٹیشن کے باہر فٹ پاتھ پر ٹہلنا شروع کر دیا اور دوسری طرف بابر غوری اور فروغ نسیم اپنی نشستیں بار بار بدلتے رہے۔
نہ کوئی سرگوشی اور نہ مسکراہٹ۔ کچھ مزید انتظار کے بعد سرگوشیوں نے جنم لیا تو پارٹی کے انٹرنیشنل سیکریٹریٹ میں موجود واسع جلیل نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ الطاف حسین سے کی جانے والی تفتیش کے بعد وکلا نے ان کی ضمانت کی درخواست جمع کرا دی ہے۔
یہ سنتے ہی کچھ دیر قبل موبائل پر موصول ہونے والے اس پیغام کا خیال آیا جس میں دبے الفاظ میں الطاف حسین کی ضمانت کی اطلاع دی گئی تھی لیکن صحافتی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے شائع کرنا ممکن نہ تھا۔
خبر کے بعد تو پولیس سٹیشن کے باہر موجود ایم کیو ایم کےرہنماؤں کو جیسے ایک نئی لائف لائن مل گئی۔ چہرے چمک اٹھے اور ذرا انتظار کے بعد فون کی گھنٹی بجی تو پتہ چلا کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ نے الطاف حسین کی ضمانت منظور کر لی ہے لیکن یہ بھی بتایا گیا کہ انھیں رہا ہونے میں ابھی مزید وقت لگے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گھڑی پر نظر ڈالی تو گھر جانے کے لیے آخری ٹرین میں صرف دس منٹ باقی تھے. مصطفیٰ عزیز آبادی سے یہ وعدہ لیے ٹرین پکڑ لی کہ فون پر اطلاع فراہم کر دیں گے۔
گھر پہنچنے سے تھوڑی دیر پہلے ہی فون کی گھنٹی بجی، مصطفیٰ عزیز آبادی نے الطاف حسین تک دوڑتے ہوئے بلند آواز میں کہا ’مبارک ہو بھائی باہر آ گئے ہیں۔‘
اسکاٹ لینڈ یارڈ نے رابطہ کرنے پر منی لانڈرنگ کیس میں ایک ساٹھ سالہ شخص کی ضمانت پر رہائی کی تصدیق کر دی لیکن کیا ان کے برطانیہ سے باہر جانے پر پابندی لگائی گئی ہے؟ اس سوال کو گول کرتے ہوئے پولیس ترجمان نے بتایا کہ ان کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور ملزم کو جولائی میں دوبارہ پیش ہونا پڑے گا۔
میں گھر میں داخل ہوا اور بستر میں گھسنے سے پہلے ذہن میں صرف یہی سوال گھومتا رہا کہ اب آگے ’بھائی‘ کے ساتھ کیا ہوگا۔







