کراچی کے ایک ویران علاقے سے سات لاشیں برآمد

ہلاک ہونے والوں کی عمریں 20 سے 40 سال کے درمیان تھیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنہلاک ہونے والوں کی عمریں 20 سے 40 سال کے درمیان تھیں
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی پولیس نے شہر کے ایک ویران علاقے سے سات تشدد زدہ لاشیں برآمد کی ہیں، جن میں سے تین کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سواتی گروپ سے بتایا گیا ہے۔

منگھو پیر پولیس کے مطابق ساتوں لاشیں ایک ویران علاقے میں واقع جھاڑیوں سے ملی ہیں، جنھیں مبینہ طور پر اغوا کرنے کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

پولیس کو جائے وقوع سے نائن ایم ایم پستول کی گولیوں کے 16 خول بھی ملے ہیں، جو اس سے پہلے دیگر برآمد ہونے والی لاشوں کے قریب سے بھی ملتے رہے ہیں۔

ساتوں لاشوں کو عباسی شہید ہپستال منتقل کردیا گیا ہے، جہاں ان کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی عمریں 20 سے 40 سال کے درمیان تھیں اور انھیں قریب سے سر اور سینے میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

ایس ایس پی عرفان بلوچ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے تین کی شناخت ہوچکی ہے، جن میں شعیب، خان سعید اور یوسف شامل ہیں جن کے شناختی کارڈ پر ان کا پتہ سوات تحریر ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کا تعلق مبینہ طور پر کالعدم تحریک طالبان سواتی گروپ سے تھا۔ ایس ایس پی عرفان بلوچ کے مطابق ہلاکتیں کالعدم تحریک طالبان میں اندرونی تصادم کا نتیجہ ہو سکتی ہیں، لیکن کسی تیسرے فریق کی کارروائی کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

یاد رہے کہ کراچی اور آس پاس کے علاقوں سے گذشتہ پانچ ماہ میں ویران علاقوں سے 25 سے زائد تشدد زدہ لاشیں مل چکی ہیں، جن میں سے زیادہ تر کالعدم تنظیموں کے کارکن تھے، جبکہ کچھ کی شناخت متحدہ قومی موومنٹ نے بطور کارکن کی تھی۔

یہ لاشیں سرجانی ٹاؤن، ملیر، میمن گوٹھ، دھابیجی اور سپر ہائی وے سے برآمد ہوئی ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کا الزام ہے کہ ان کے کارکنوں کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے۔

دوسری جانب کورنگی کے علاقے بلال کالونی چورنگی پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سب انسپکٹر سلیم ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق اہلکار چورنگی سے گزر رہے تھے کہ انھیں نشانہ بنایا گیا۔