کراچی: تین تشدد شدہ لاشیں برآمد

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے سرجانی سے تین تشدد شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
لاشوں کو عباسی شہید ہپستال منتقل کر دیا گیا۔
سرجانی تھانے کی حدود نادرن بائی پاس سے پولیس کو یہ لاشیں ملی ہیں۔
پولیس کے مطابق تینوں کو کسی دوسرے مقام سےگاڑی میں لا کر اس جگہ ہلاک کیا گیا۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کے خول بھی برآمد کیے۔
ایس ایس پی عرفان بلوچ کا کہنا ہے کہ تینوں کی عمریں 35 سے 40 سال کے درمیان ہیں، چہرے پر داڑھی اور قمیض شلوار پہنے ہوئے تھے۔
پولیس کو شک ہے کہ ہلاک ہونے والوں کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے۔
اس سے پہلے میمن گوٹھ سے پولیس کو چار لاشیں ملی تھیں جن کی عمریں 25 سے 30 سال کے درمیان تھیں اور انھیں بھی قریب سے گولی ماری گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ میمن گوٹھ تھانے کی حدود سے اس سے پہلے بھی تشدد شدہ لاشیں ملتی رہی ہیں جن میں لاپتہ افراد سمیت مختلف مذہبی گروہوں اور سیاسی جماعتوں کے کارکن شامل تھے۔
رواں سال جنوری میں سپر ہائی وے جانے والی سڑک سے چار افراد کی لاشیں ملیں جن میں سے دو کی شناخت شربت خان اور کفایت خان کے نام سے ہوئی اور کا تعلق وزیرستان سے تھا۔
دونوں کے لواحقین نے الزام عائد کیا تھا کہ انھیں نیو سبزی منڈی سے نامعلوم افراد اپنے ساتھ لےگئے تھے۔
اسی طرح 15 فروری کو میمن گوٹھ کے علاقے ڈلموٹی سے دو نامعلوم افراد کی لاشیں ملی تھیں جنھیں گولیاں مار کر ویرانے میں پھینک دیا گیا تھا۔
19 مارچ کو بھی اسی نوعیت کا ایک واقعہ جام گوٹھ کے قریب پیش آیا تھا جہاں ایک شخص کی لاش ملی تھی۔
تین اپریل کو سپر ہائی وے جانے والی سڑک پر ایک زیرِتعمیر منصوبے کے قریب سے 25 سے 30 سال کی عمر کے دو نوجوانوں کی تشدد شدہ لاشیں ملی تھیں جس کے بارے میں پولیس کا کہنا تھا کہ ان کے چہروں پر داڑھی تھی اور انھوں نے قمیض شلوار پہن رکھی تھی۔
کراچی شہر کے علاوہ اس کے قریبی علاقوں سے بھی لاشیں ملتی رہی ہیں۔
19 فروری کو سپر ہائی وے سے متصل نوری آباد کے علاقے سے ایک تشدد شدہ لاش ملی تھی جسے پولیس نے لاوراث قرار دیکر حیدرآباد میں دفن کر دیا تھا۔ بعد میں نادرا ریکارڈ کے ذریعے مقتول کی شناخت عبدالجبار کے نام سے کی گئی تھی جو ایم کیو ایم کے کارکن تھے اور آٹھ فروری سے لاپتہ تھے۔
اسی طرح 21 اپریل کو کراچی کے قریب دھابیجی کے ایک لنک روڈ سے چار لاشیں برآمد ہوئی تھیں جن کے بھی ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے۔
اس سے پہلے اسی علاقے سے ایم کیو ایم کے دو کارکنوں کی لاشیں مل چکی ہیں۔
ایم کیو ایم نے الزام عائد کیا تھا انھیں اغوا کر کے ہلاک کیا گیا۔







