ٹھٹہ سے چار نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد

ٹھٹھہ میں اس سے پہلی بھی لاشیں مل چکی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنٹھٹھہ میں اس سے پہلی بھی لاشیں مل چکی ہیں
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے قریب ٹھٹہ کے نواحی علاقے سے مزید چار نامعلوم افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

ٹھٹھ کی حدود میں دھابیجی پولیس نے قومی شاہراہ سے دو کلومیٹر دور ایک لنک روڈ سے یہ چار لاشیں برآمد کی ہیں۔

ادھر پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ایچ آر سی پی نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ایم کیو ایم کی جانب سے اس کے کارکنوں کے اغوا، تشدد اور ماروائے عدالت قتل کے واقعات کے باوجود ان الزامات کی تفتیش کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔

پولیس کے مطابق پیر کو ملنے والی لاشوں کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے جبکہ چہرے اور جسم خون سے تر تھے۔ چاروں لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے مکلی ہسپتال اور وہاں سے ایدھی سرد خانے کراچی منتقل کر دی گئی ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی عمر 35 سے 40 کے درمیان ہیں اور ہر ایک کو تین سے چار گولیاں لگی ہوئی ہیں ۔

لاشیں دس سے 12 گھنٹے پرانی بتائی گئی ہیں اور مقتولین شلوار قمیض میں ملبوس تھے اور ان کے چہروں پر داڑھی ہے۔

دھابیجی پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول شکل سے پشتون نظر آتے ہیں۔

چاروں افراد کی آخری اطلاعات تک شناخت نہیں ہو سکی ہے اور ان کی جیب سے پولیس کو کوئی کارڈ یا ٹیلی فون نہیں مل سکا ہے جس کی وجہ سے پولیس کو شناخت میں دشواری کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے اسی علاقے سے متحدہ قومی موومنٹ کے دو کارکنوں کی لاشیں ملی تھیں۔

ایم کیو ایم نے الزام عائد کیا تھا انھیں اغوا کر کے ہلاک کیا گیا۔

ایچ آر سی پی کی ترجمان زہرہ یوسف کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ادارے کو معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ ہفتے کورنگی سے ایم کیو ایم کے دو کارکنوں کی لاشیں ملی تھیں۔

ایچ آر سی پی نے اپنے بیان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایم کیو ایم کی جانب سے اس کے کارکنوں کے اغوا، تشدد اور ماروائے عدالت قتل کے واقعات کی فوری تحقیقات کے لیے انکوائری تشکیل دے کر ان کی شکایات کا ازالہ کریں۔

دوسری جانب کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں انڈر پاس کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔

ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت سیف الدین کے نام سے ہوئی ہے جو گورنمنٹ ڈگری کالج میں ٹیچر تھے۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف کراچی میں پیر کو امن و امان کے بارے میں اجلاس کی صدرت کریں گے جس میں ڈی جی رینجرز اور پولیس حکام انھیں شہر کی صورتحال اور اقدامات سے آگاہ کریں گے۔