مہمند ایجنسی میں پانچ شدت پسند ہلاک

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کے مطابق غلنئی کے قریب سکیورٹی فورسز سے جھڑپ میں پانچ شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جھڑپ میں دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
پیر کو یہ اطلاعات بھی تھیں کہ پانچ افراد کی لاشیں پنڈیالی کے قریب سے ملی ہیں لیکن کرفیو کی وجہ سے سرکاری سطح پر لاشوں کی تصدیق نہیں ہو رہی تھی۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کی اطلاع پر یہ معلوم ہوا تھا کہ غلنئی کے علاقے میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب کچھ شدت پسند روپوش ہیں جن کے خلاف کارروائی کی گئی۔
ذرائع نے بتایا کہ اس مقام پر ایک جھڑپ میں پانچ شدت پسند ہلاک کر دیے گئے ہیں جبکہ دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پانچوں لاشیں پولیٹکل انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے بتایا کہ یہ وہی شدت پسند تھے جنھوں نے دو روز پہلے مہمند ایجنسی میں دیسی ساختہ بم کا دھماکہ کیا تھا جس میں چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان مہمند ایجنسی کے ترجمان نے قبول کی تھی۔
مہمند ایجنسی میں تین روز سے کرفیو نافذ ہے جس وجہ سے ان علاقوں سے اطلاعات آسانی سے موصول نہیں ہو رہی ہیں۔
یاد رہے مہمند ایجنسی کے علاقے کڑپہ سےگذشتہ ہفتے بھی چار افراد کی لاشیں ملی تھیں جس کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ ان کا تعلق خیبر ایجنسی سے تھا اور انھیں فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر اتوار کی رات سے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی سے بھی تشدد کے واقعات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں دونوں جانب سے جای نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
سکیورٹی ذرائع نے ان واقعات کی تصدیق نہیں کی اور ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے کسی واقعے کی اطلاع ان کے پاس نہیں ہے ۔
گورنر خیبر پختونخوا مہتاب احمد خان نے مہمند ایجنسی کا دورہ کیا تھا اور وہاں بغیر کسی پروٹوکل کے بازار بھی گئے تھے لیکن ان کے دورے کے بعد سے اس قبائلی علاقے میں حالات کشیدہ ہیں۔







