شدت پسندی سے متاثرہ افراد پر دور رس نفسیاتی اور مالی اثرات

پاکستان میں گذشتہ کئی سالوں سے جاری شدت پسندی کے واقعات میں ہزاروں عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں گذشتہ کئی سالوں سے جاری شدت پسندی کے واقعات میں ہزاروں عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں
    • مصنف, احمد رضا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

غیر سرکاری تنظیموں کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بم دھماکوں کے متاثرہ خاندانوں کی زندگیوں پر دور رس جسمانی، نفسیاتی اور مالی اثرات مرتب ہوتے ہیں جنھیں بہتر طور پر سمجھنے اور لوگوں کی مالی اور طبی مدد کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

برطانیہ کی تنظیم ایکشن آن آرمڈ وائلنس اور پاکستان کی غیرسرکاری تنظیم سسٹین ایبل پیس اینڈ ڈویلپمینٹ آرگنائزیشن کی اس مشترکہ رپورٹ میں مون مارکیٹ لاہور میں دسمبر 2009 میں ہونے والے دوہرے خودکش بم حملے اور اس کے متاثرین کو موضوع بنایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مصنفین نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کے علاوہ ہسپتالوں کے عملے، مقامی تاجروں، پولیس اور سرکاری افسران سے بات کی گئی ہے اور یہ سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ اس حملے نے لوگوں کو کس طرح سے جسمانی، نفسیاتی اور معاشی طور پر متاثر کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بم حملوں کے نقصانات سے نمٹنے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے مگر سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ متاثرہ لوگ حملوں کے بعد کس طرح سے اس کے دیرپا اثرات سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اور اس میں انھیں کیا کیا مشکلات پیش آتی ہیں۔

اسلام آباد میں رپورٹ کی رونمائی کے موقعے پر ایکشن آن آرمڈ وائلنس کے ڈائریکٹر پالیسی ایئن اوورٹن نے کہا کہ ایسے حملوں کی رپورٹنگ، خبر اور اموات اور زخمیوں کی تعداد تک محدود ہوتی ہے اور اس کے بعد میڈیا اور بڑی حد تک حکام کی توجہ اس سے ہٹ جاتی ہے مگر ان ہزاروں زندگیوں کے لیے کہانی وہیں ختم نہیں ہوتی۔

رپورٹ کے ایک مصنف ہینری ڈوڈ نے کہا کہ’ہم اکثر ایسے واقعات کے بعض دوسرے اثرات کو نہیں دیکھتے۔ مثلاً اس خاندان پر کیا بیتتی ہے جس کی کفالت کرنے والا مارا جاتا ہے۔ اس زخمی کے ساتھ کیا ہوتا ہے جس کی ٹانگوں پر گہرے زخم آتے ہیں اور اس ہسپتال کے ساتھ کیا ہوتا ہے جسے چند گھنٹوں میں ڈیڑھ سو کے قریب زخمیوں کو طبی مدد فراہم کرنا ہوتی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ مون مارکیٹ کے دھماکے کے بعد حکومت نے لاہور کے ہسپتالوں کو زخمیوں کا مفت علاج کرنے کی ہدایت کی تھی مگر ان ہسپتالوں کو اس کے لیے اضافی رقم نہیں دی گئی اور ہسپتالوں کو اس کے لیے اپنی او پی ڈیز سمیت دوسری طبی خدمات کے بجٹ میں کٹوتی کرنا پڑی۔

رپورٹ کے مصنفین نے ایک 21 سالہ طالبعلم سلمان زیب کی کہانی سنائی، جن کی دونوں ٹانگیں دھماکے میں ٹوٹ گئی تھیں۔

’سلمان ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ زیرعلاج رہے۔ دھماکے کے وقت ان کے امتحان ہو رہے تھے لیکن طویل علاج کی وجہ سے انھیں اپنی تعلیم چھوڑنا پڑی۔ اب وہ اپنے والد کے ساتھ ہی فرنیچر کا کاروبار کرتے ہیں مگر وہ اپنے زخموں کی وجہ سے کوئی بھاری کام نہیں کر سکتے۔‘

ہینری ڈوڈ نے کہا کہ سلمان کے علاج پر ان کے والد کے مطابق مجموعی طور پر پانچ لاکھ روپے خرچ ہوئے۔

انھوں نے کہا: ’اس طرح کے جسمانی زخم نظر آتے ہیں اور زیادہ واضح ہوتے ہیں مگر جو چیز بہت غیرواضح ہوتی ہے وہ اس طرح کے حملوں کے نتیجے میں لوگوں کی نفسیات پر پڑنے والے اثرات ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے اس سلسلے میں مون مارکیٹ دھماکے میں معمولی زخمی ہونے والے ایک شخص محمد عارف سلیم کی مثال دی۔

رپورٹ کے مطابق بم حملوں کے نقصانات سے نمٹنے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنرپورٹ کے مطابق بم حملوں کے نقصانات سے نمٹنے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے

’حملے کے بعد عارف کو بات بات پر غصہ آ جاتا تھا اور ڈراؤنے خواب آتے تھے۔ ان کے ادارے نے انھیں آرام کے لیے ایک ہفتے کی چھٹی پر بھیج دیا مگر ایک ہفتے بعد جب وہ ڈیوٹی پر واپس گئے تو ان کی ملازمت کسی اور کو دے دی گئی تھی جس کی وجہ سے اپنے مکان کی قسطیں دینے کے قابل نہیں رہے اور انھیں ایک چھوٹے مکان میں منتقل ہونا پڑا۔‘

مسٹر ڈوڈ نے کہا کہ اس حملے کے جن متاثرین سے ان کی بات چیت ہوئی ان میں سے صرف چھ فیصد لوگوں کو نفسیاتی مدد مل سکی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بم حملے کو چار برس گزر گئے ہیں لیکن اس کے متاثرہ لوگ اب بھی اس کے اثرات سے نہیں نکل سکے ہیں۔

’مون مارکیٹ کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ آج بھی وہاں لوگ خریداری کے لیے آنے سے گھبراتے ہیں جس سے اُن کی آمدنی میں 50 فیصد تک کمی آئی ہے۔‘

رپورٹ کے مصنفین کے مطابق بم حملے میں زخمی یا ہلاک ہونے والوں کے ورثا میں سے 74 فیصد یہ سمجھتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد ان کی مالی حالت بدتر ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ مسلح تشدد سے عام شہریوں کی اموات کے لحاظ سے پاکستان آج بھی عراق اور شام کے بعد دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے مگر یہاں دھماکوں کے متاثرین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی قانون یا امدادی فنڈ موجود نہیں۔