عمران خان کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر

عمران خان الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف 11 مئی کو اسلام آباد میں دھرنا دینے والے ہیں
،تصویر کا کیپشنعمران خان الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف 11 مئی کو اسلام آباد میں دھرنا دینے والے ہیں

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی گئی ہے۔

لاہور میں بیرسٹر اسجد نے اپنی درخواست میں عدالت سے کہا ہے کہ عمران خان کے کہنے پر پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنان نے بدھ کے روز لاہور ہائی کورٹ میں توڑ پھوڑ کی۔

درخواست گزار کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ عمران خان عدلیہ کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے رہے ہیں اور اس سے عدالت کا تقدس پامال ہوا ہے۔

یاد رہے کہ عمران خان بدھ کو ایک حلقے میں انتخابی نتائج کی دوبارہ گنتی کے خلاف حکمِ امتناعی کیس میں لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوئے تھے۔

اس سے پہلے گذشتہ سال اگست میں بھی عمران خان کے خلاف سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کے حوالے سے دلائل سنے گئے تھے جن کا تعلق عمران خان کی جانب سے عدلیہ کے لیے لفظ شرمناک کے استعمال سے تھا۔ تاہم اس معاملے میں عدالت نے عمران خان کے خلاف نوٹس خارج کر دیا تھا۔

عمران خان الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف 11 مئی کو اسلام آباد میں دھرنا دینے والے ہیں۔

بدھ کو لاہور ہائی کورٹ میں تحریکِ انصاف کے کارکن صبح سے موجود رہے اور عمران خان کے حق اور ایک میڈیا گروپ کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔

گذشتہ سال اگست میں بھی عمران خان کے خلاف سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کے حوالے سے کارروائی ہوئی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ سال اگست میں بھی عمران خان کے خلاف سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کے حوالے سے کارروائی ہوئی تھی

عمران خان لاہور ہائی کورٹ پہنچے تو اس وقت ہنگامہ آرائی کے مناظر دیکھنے میں آئے جب تحریکِ انصاف کے کارکنوں نے ان کے ہمراہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی عدالت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس دوران عدالت کے باہر رکھے گملے ٹوٹ گئے اور عدالت کے دروازے کو بھی نقصان پہنچا۔

ہنگامہ آرائی دیکھ کر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عمر عطا بندیال اٹھ کر چلے گئے اور مقدمے کی سماعت ملتوی کر دی گئی۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل احمد اویس کو کہا کہ وہ عدالت میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بارے میں تحریری وضاحت دیں۔

عدالت میں پیشی کے بعد اپنی رہائش گاہ پر تحریکِ انصاف کے چیئرمین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور اس کے خلاف ہونے والے کسی بھی حملے کا دفاع کریں گے۔

لاہور ہائی کورٹ نے این اے 122 کے الیکشن نتائج کی دوبارہ گنتی کے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف حکمِ امتناعی دے رکھا ہے۔

اس حلقے سے عمران خان ہار گئے تھے اور مسلم لیگ ن کے ایاز صادق جیتنے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

عدالت نے نو مہینے پہلے یہ حکم امتناعی ایاز صادق کی درخواست پر ہی جاری کیا تھا۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ ایک سازش کے تحت پنجاب میں قومی اسمبلی کے کم از کم 35 نشستوں پر دھاندلی کی گئی تھی۔