’جیو‘ کے خلاف نیا محاذ

پی ٹی آئی کی جانب سے جیو اور جنگ کا بائیکاٹ میڈیا گروپ کی جانب سے معذرت سے مشروط کیا گیا ہے مگر یہ واضح نہیں کہ معذرت کس چیز کی ہو

،تصویر کا ذریعہAFP Getty

،تصویر کا کیپشنپی ٹی آئی کی جانب سے جیو اور جنگ کا بائیکاٹ میڈیا گروپ کی جانب سے معذرت سے مشروط کیا گیا ہے مگر یہ واضح نہیں کہ معذرت کس چیز کی ہو
    • مصنف, طاہر عمران
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستانی میڈیا کے مختلف چینل حامد میر پر حملے کے بعد سے ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہیں اور الزامات اور جوابی الزامات کا ایک طویل سلسلہ ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔

اس جنگ کی شدت میں حالیہ اضافہ پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کے اس بیان سے ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کی جماعت جیو اور جنگ کا بائیکاٹ کریں گے۔

اس بائیکاٹ کی وجوہات میں بڑی وجہ عمران خان کے مطابق: ’اس گروپ کا انتخابات میں دھاندلی میں کردار‘ ہے، مگر بہت سے مبصرین اس کی ’ٹائمنگ‘ پر سوال کر رہے ہیں کہ یہ الزامات اس وقت ہی کیوں لگائے جا رہے ہیں۔ اس پر نجی چینل اے آر وائی کے پروگرام میں عمران خان نے کہا اور اس کی بازگشت پی ٹی آئی کی ایک ٹویٹ میں بھی سنائی دی جس میں کہا گیا کہ ’میں نے جنگ گروپ پر آئی ایس آئی کے سربراہ کے میڈیا ٹرائل کی وجہ سے تنقید کی تھی۔‘

جمعے کے روز اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جب تک یہ ’میڈیا گروپ معذرت نہیں کرے گا تب تک بائیکاٹ جاری رکھا جائے گا۔‘

عمران خان کے جیو پر الزامات کے حوالے سے جیو کے انتخابات سیل کے ڈائریکٹر افتخار احمد نے بی بی سی اردو کی عنبر خیری سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں نے یہ چیلنج کیا ہے عمران کو کہ وہ میری ٹرانسمشن میں جو پہلے نتیجے سے لے کر آخری نتیجے تک کم از کم 18 گھنٹوں پر محیط ہے، یہ ثابت کریں کہ کہاں، کب اور کیسے ہم نے ان سے دھوکا کیا ہے؟ یا ہم نے دھاندلی کی ہے؟‘

عمران خان نے اپنے الزامات میں یہ بھی کہا کہ جیو نے 11 مئی کے انتخابات میں نواز شریف کی فتح کی تقریر اس وقت نشر کی جب ابھی انتخابات کے حتمی نتائج سامنے نہیں آئے تھے۔ عمران کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف جنگ گروپ کے پیچھے بیرونی فنڈنگ کے دستاویزی ثبوت پیش کرے گی۔

عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’جنگ گروپ کی بیرونی فنڈنگ کی وجہ سے انھوں نے مشرقی سرحد پر امن کی آشا کی بات کی جبکہ ملک کی مغربی سرحدوں پر جنگ جاری رکھنے کی بات کی۔‘

پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے یہ ٹویٹ کی گئی ’میں نے جنگ گروپ پر آئی ایس آئی کے سربراہ کے میڈیا ٹرائل کی وجہ سے تنقید کی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنپی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے یہ ٹویٹ کی گئی ’میں نے جنگ گروپ پر آئی ایس آئی کے سربراہ کے میڈیا ٹرائل کی وجہ سے تنقید کی تھی۔‘

یاد رہے کہ ماضی میں پی ٹی آئی کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی پر شائع کیے جانے والے وائٹ پیپر میں مندرجہ بالا الزامات کا کوئی ذکر نہیں تھا اور اس وقت تحریک انصاف کا بڑا الزام یہ تھا کہ ’جیو نے پی ٹی آئی کو دوسری سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں کم وقت دیا۔‘

صحافی نسیم زہرہ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ ’اگر عمران خان کے جیو کے خلاف الزامات کی بنیاد یہ ہے کہ جیو نے نواز شریف کی فتح کی تقریر پہلے نشر کی تو ان کی یہ بنیاد بہت غیر اطمینان بخش ہے۔‘

اسی الزام پر تبصرہ کرتے ہوئے افتخار احمد نے کہا کہ ’سیاستدانوں کی شاید یہ عادت ہو گئی ہے کہ اپنی ناکامیوں اور کوتاہیوں کا ذمہ دار کسی اور کو ٹھہرا دیں۔‘

افتخار احمد نے عمران خان کے الزام پر سوال کیا کہ ’ایک سال کے بعد آپ کو یہ کیسے خیال آ گیا؟ پہلا وائٹ پیپر بھی تو آپ نے ہی شائع کیا تھا؟‘

پی ٹی آئی کو مناسب کوریج نہ دیے جانے کے الزام کا جواب دیتے ہوئے افتخار احمد نے کہا کہ ’آپ مناسب کوریج کی بات کرتے ہیں، میں اپنے ادارے کے اُن افراد میں سے ہوں جو سمجھتا تھا کہ بہت زیادہ کوریج دی جا رہی تھی۔ اس کے مقابلے میں آپ پاکستان پیپلز پارٹی کی کوریج دیکھیں جو پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ہے جو وقت اور چانس اس کو دیا گیا اگر آپ اس کو دیکھیں تو حیرانی ہو گی آپ کو۔‘

کوریج کے ہی موضوع پر تبصرہ کرتے ہوئے رضا رومی نے ٹویٹ کی کہ ’جیو انتخابی مہم کے دوران عمران خان اور پی ٹی آئی کو حد سے زیادہ کوریج دیتا رہا ہے۔ جب سیاست ٹی وی پر کی جانے لگتی ہے تو یہی ہوتا ہے۔‘

عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں جیو کی بیرونی فنڈنگ پر سوال اٹھایا

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنعمران خان نے اپنی ٹویٹ میں جیو کی بیرونی فنڈنگ پر سوال اٹھایا

عمران خان کے جیو پر الزامات کے نتیجے میں جیو کے خلاف نفرت اور غصے کے اظہار میں سوشل میڈیا پر خصوصاً اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ جیو کے ایک اینکر نے بتایا کہ انھیں ’آئی ایس آئی سے زیادہ اب عوامی ردِ عمل سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔‘

ان اینکر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہوں نے اور ان کے کئی ساتھیوں نے اپنی گاڑیوں سے جیو کے سٹکر ہٹا دیے ہیں اور چند دن قبل ان کے کیمرا مین سے بھی بدتمیزی کی گئی۔

انسانی حقوق کی معروف کارکن اور وکیل عاصمہ جہانگیر نے کچھ دن قبل ایک ٹویٹ کی تھی کہ ’ماسکس آر آف‘ یعنی لوگ بے نقاب ہو چکے ہیں۔

اس صورتحال کا نتیجہ جو بھی نکلتا ہے مگر خدشہ یہ ہے کہ ٹی وی سکرینوں پر شروع ہونے والی اس جنگ میں جذبات اس قدر نہ مشتعل کر دیے جائیں کہ اس کی قیمت ان صحافیوں اور کارکنوں کو ادا کرنی پڑ جائے جن کا ان تمام جھگڑوں سے براہِ راست کوئی تعلق نہ تھا اور نہ ہے۔