قبائلی علاقوں میں دھماکہ اور فائرنگ، چار افراد ہلاک

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ مرنے افراد نشانہ تھے یا وہ کسی اور کو ٹارگٹ کرنے جا رہے تھے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنسرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ مرنے افراد نشانہ تھے یا وہ کسی اور کو ٹارگٹ کرنے جا رہے تھے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک بم دھماکے میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ خیبر ایجنسی سے دو افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے بازار میں ہونے والے بم دھماکے میں دو شدت پسند ہلاک ہو گئے جب کہ ایک زخمی ہوگیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ منگل کو میران شاہ بازار کے علاقے ظفر ٹاؤن میں گاڑیوں کے اڈے میں پیش آیا۔

انھوں نے کہا کہ دو موٹر سائیکل سوار بازار میں آئے اور جونہی انھوں نے موٹر سائیکل کھڑی کی تو اس دوران وہاں ایک زوردار دھماکہ ہوا جس میں دونوں موٹر سائیکل سوار مارے گئے جبکہ ایک راہ گیر زخمی ہو گیا۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مرنے افراد نشانہ تھے یا کسی کو ٹارگٹ کرنے جا رہے تھے۔

مرنے والے دونوں افراد عسکریت پسند بتائے جارہے ہیں، تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کا تعلق کس تنظیم سے تھا۔

یاد رہے کہ چند دن قبل بھی میران شاہ بازار میں نامعلوم افراد کی طرف سے ایک شدت پسند کمانڈر کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں حالیہ ہفتوں میں طالبان کے دو دھڑوں شہریار محسود اور خان سید سجنا گروپوں کے مابین لڑائی میں درجنوں عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

دوسری جانب قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں ایک شخص کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی ہے جبکہ ایک خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق دونوں واقعات منگل کو خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں پیش آئے۔