لاہور:’قتل کی وجہ ہم جنس پرستوں سے نفرت تھی‘

اپنے اعترافی بیان میں محمد اعجاز نے کہا کہ وہ اس سے پہلے ایک اور ہم جنس پرست شخص کا قتل کرچکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناپنے اعترافی بیان میں محمد اعجاز نے کہا کہ وہ اس سے پہلے ایک اور ہم جنس پرست شخص کا قتل کرچکے ہیں
    • مصنف, شمائلہ جعفری
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام, لاہور

لاہور میں ہم جنس پرستوں کے ایک ’سیریئل کلر‘ کو گرفتار کیا گیا ہے جس نے شہر میں تین ہم جنس پرستوں کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔

محمد اعجاز اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں اور لاہور کی ایک عدالت نے ان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ دے رکھا ہے۔

انھوں نے اپنے اعترافی بیان میں کہا ہے کہ ایسا انھوں نے ہم جنس پرستی سے نفرت کی بنا پر کیا ہے۔

محمد اعجاز نے یہ قتل مارچ اور اپریل کے دوران کیے۔ پولیس نے انھیں گذشتہ ہفتے کینٹ کے علاقے سے اس وقت گرفتار کیا جب وہ اپنے اگلے ’شکار‘ سے ملاقات کر رہے تھے۔ دو بچوں کے والد 28 سالہ محمد اعجاز کا تعلق نارووال سے ہے۔ وہ سرکاری ملازم ہیں اور لاہور کے علاقے شاہدرہ میں رہائش پذیر تھے۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر ایس پی کینٹ اسد سرفراز کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے کی حدود میں ایک نوجوان کا قتل ہوا۔ تفتیش کے دوران پتہ چلا کہ اسی طرح کے حالات میں ایک نوجوان گلشن راوی کے علاقے میں بھی قتل کیا جا چکا ہے۔ جب دونوں مقتولین کے ٹیلی فونز کے ریکارڈ چیک ہوئے تو محمد اعجاز کی شناخت ہوئی۔

محمد اعجاز اپنے ’شکار‘ کی تلاش ہم جنس پرستوں کی سماجی رابطے کی ایک ویب سائٹ ’مین جیم‘ سے کرتے تھے۔

پاکستان میں ہم جنس پرستوں میں آگاہی اور ان کی مدد کے لیے بنائی گئی پہلی باضابطہ ویب سائٹ پر سرکاری طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں ہم جنس پرستوں میں آگاہی اور ان کی مدد کے لیے بنائی گئی پہلی باضابطہ ویب سائٹ پر سرکاری طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے

انھوں نے یہ ویب سائٹ کچھ ماہ پہلے اس وقت استعمال کرنا شروع کی جب انھوں نے پہلا سمارٹ فون خریدا۔ پولیس نے اس ویب سائٹ پر آنے والی ٹریفک کی نگرانی شروع کی۔ اسی دوران اعجاز نے ایک اور شخص سے رابطہ کیا اور اسے ملاقات کے لیے کینٹ کے علاقے میں ایک فلیٹ پر ملاقات کا وقت طے کیا۔ جب اعجاز اسے ملنے گیا تو پولیس نے چھاپہ مار کر اعجاز کو گرفتار کر لیا۔

اپنے اعترافی بیان میں محمد اعجاز نے کہا کہ وہ اس سے پہلے ایک اور ہم جنس پرست شخص کو قتل کر چکے ہیں۔

جیل سے ایک خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے محمد اعجاز کا کہنا تھا کہ ’میرا طریقہ غلط تھا اور مجھے افسوس ہے کہ مقتولین کے خاندانوں کو اپنے پیاروں سے جدا ہونا پڑا۔ لیکن ہم جنس پرست معاشرے میں برائی پھیلا رہے تھے اور مجھے انھیں ہر صورت میں روکنا تھا۔‘

پاکستان میں ہم جنس پرستی قانوناً جرم ہے اور معاشرے میں اسے بری نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اسی لیے اکثر ہم جنس پرست اپنے خاندان سے چھپ کر سماجی رابطوں کی ویب سائٹز کے ذریعےاپنی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور دوسرے ہم جنس پرستوں سے رابطہ قائم کرتے ہیں۔

تینوں مقتولین تعلیم یافتہ تھے۔ ان میں ایک ریٹائرڈ میجر بھی شامل ہے۔ اس واقعے کے منظرعام پر آنے کے بعد پاکستان میں ہم جنس پرست خوف کا شکار ہوگئے ہیں۔