پاکستان:ہم جنس پرستوں کی ویب سائٹ پر پابندی

- مصنف, ارم عباسی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں ہم جنس پرستوں میں آگاہی اور ان کی مدد کے لیے بنائی گئی پہلی باضابطہ ویب سائٹ پر سرکاری طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس ویب سائٹ کو پانچ سو سے ایک ہزار افراد روزانہ دیکھتے تھے۔
<link type="page"><caption> خیبر ایجنسی میں’گے میرج‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2005/10/051005_gay_marriage_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
اسے چار ماہ قبل شروع کیا گیا تھا جس کے بعد سے اب تک اس پر مستقل آنے والے صارفین کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کر گئی تھی۔
بی بی سی نے اس سلسلے میں پی ٹی اے کے حکام سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
اس ویب سائٹ کے خالق نے جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے، بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان ٹیلی کمونیکیشن نے اس ویب سائٹ کو بند کر دیا ہے۔ جب اس ویب سائٹ کو کھولنے کی کوشش کی جائے تو یہ پیغام ملتا ہے ممنوعہ مواد کے پیشِ نظر اس ویب سائٹ کو بند کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی ویب سائٹ پر کوئی قابل اعتراض مواد نہیں تھا اور ’اسے بند کرنے کا پاکستان ٹیلی کمیونیکیش اتھارٹی کا فیصلہ غیر آئینی اور آزادی رائے کے حق کے خلاف ہے‘۔
انھوں نے کہا کہ’زیادہ تر ہم جنس پرست ہی اس ویب سائٹ کو استعمال کرتے تھے جس میں صحت سے متعلق امور کے بارے میں مشورے دیے جاتے تھے کیونکہ پاکستانی معاشرے میں اس طرح کے معاملات کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ان کا کہنا تھا کہ وہ معاشرے میں منفی ردعمل کے باعث عدالتوں سے رجوع نہیں کریں گے لیکن انھوں نے انسانی حقوق اور سماجی نتظیموں کے ذریعے آزادی رائے کے حق کے لیے آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت نے گزشتہ ایک سال سے یوٹیوب اور کچھ بلوچ تنظیموں کی ویب سائٹس پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
پاکستانی معاشرے میں ہم جنس پرستی ایک ایسی حقیقت ہے جس پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔







