چارسدہ میں خواجہ سراؤں پر حملہ، ایک ہلاک

واقعے میں ایک خواجہ سراء جنید عرف سٹابری موقع ہی پر ہلاک ہوگیا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنواقعے میں ایک خواجہ سراء جنید عرف سٹابری موقع ہی پر ہلاک ہوگیا
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں حکام کا کہنا ہے کہ مسلح افراد کی طرف سے خواجہ سراؤں کے ایک گروپ پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک خواجہ سرا ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ سنیچر کی رات چارسدہ شہر کے علاقے پڑانگ میں پیش آیا۔ پڑانگ پولیس سٹیشن کے انچارج میر نواز خان نے بی بی سی کو بتایا کہ موسیقی کے پروگرام میں شرکت کے بعد خواجہ سراؤں کا ایک گروپ گاڑی میں واپس جارہے تھے کہ گڑھی شہباز خیل چوک میں مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روکنے کی کوشش کی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلح افراد خواجہ سراؤں کو اغواء کرنے چاہتے تھے تاہم مزاحمت پر فائرنگ کی گئی جس سے ایک خواجہ سراء جنید عرف سٹابری موقع ہی پر ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ زخمی خواجہ سراء کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

پولیس کے مطابق دونوں خواجہ سراؤں کا تعلق ضلع مردان سے بتایا گیا ہے۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ خواجہ سراؤں کا گروپ شادی کی تقریب میں شریک تھے اور محفل موسیقی کے دوران ان کی بعض مسلح افراد سے کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں انھی مسلح افراد نے خواجہ سراؤں کا پیچھا کیا اور انھیں زبردستی گاڑی سے اتارنا چاہا۔

پولیس کے مطابق خواجہ سراؤں کی نشاندہی پر دو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان کی گرفتاری کےلیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ چارسدہ میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران خواجہ سراؤں کے خلاف تشدد کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل چارسدہ ہی میں ایک پولیس اے ایس آئی کی طرف سے ایک خواجہ سرا پر جنسی تشدد کی کوشش کی گئی تھی جس پر خواجہ سرا نے پولیس اہلکار سے پستول چھین کر خود کو گولی مار دی تھی جس سے وہ زخمی ہوگئے تھے۔ تاہم اعلیٰ پولیس حکام نے اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے مذکورہ اے ایس آئی کو معطل کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا تھا۔