حضورِ والا، ہر کتا کتا نہیں ہوتا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
حضورِ والا، آداب
میں بھی ہزاروں صحافیوں میں شامل ایک ادنیٰ صحافی ہوں۔ آپ کے پیشے کی طرح میرے پیشے میں بھی سفید اور کالی بھیڑیں ہیں۔ مگر بدقسمتی سے میرے پیشے میں مقدس دیوتا ایک بھی نہیں۔ شاید اسی لیے میری برادری کے اکثر ارکان کو تمیز نہیں کہ دیوتاؤں کے روبرو ہونے، بات کرنے اور اختلاف کے کیا ضروری آداب ہوتے ہیں۔
لیکن جب سے حضورِ والا نے گنوار صحافیوں کی تربیت کے لیے مقدس دیوتاؤں کے احترام کے عملی اصولوں کے ورکنگ مینوئل پر عمل درآمد شروع کیا ہے، تب سے صحافیوں نے بھی تمیز کے ناخن لینے شروع کر دیے ہیں۔ اگرچہ یہ عمل سست رفتار ہے مگر ایک نہ ایک دن ہم صحافی پورے پورے سدھ جائیں گے یا پھر سدھار جائیں گے۔
گو حضورِ والا آپ ہی کے پیشرو تین حضورِ والا جات نے ماضی بعید میں ہم بدتمیزوں کے منہ ایسے سینے کی کوشش کی کہ دورانِ پٹائی سی کی آواز بھی نہ نکلے، مگر آپ ہی میں سے ایک چوتھے محترم بالشان نے ہمارے منہ کی سلائی کھولنے کا تاریخی کام بھی کیا ۔
ہم بہت خوش تھے کہ کسی بھلے مانس نے تو ہماری اہمیت کو سمجھا ۔مگر رفتہ رفتہ چوتھے محترم کی مہربانی کا راز بھی ہمارے منہ کی سلائی کی طرح کھلتا چلا گیا اور وہ یہ راز تھا کہ پہلے اپنی اوقات تولو پھر بولو۔ بھونکو ضرور مگر تھوتھنی دوسری طرف کر کے۔ چیخو ضرور مگر میرے کان میں نہیں۔ انگلی ضرور اٹھاؤ مگر آسمان کی جانب۔
حضورِ والا یہ سچ ہے کہ ہم نے آپ کی عطا کردہ آزادیِ اظہار کو اس فاقہ زدہ کی طرح برتا جسے بہت دن بعد کھانے کو ملے تو وہ لقموں کے بجائے پوری روٹی کو نوالہ بنا کے ٹھونس لیتا ہے۔ مگر حضورِ والا یہ فاقہ بھی تو آپ ہی کے پچھلوں کی دین تھا۔
بجا فرمایا حضورِ والا، آپ کی عطا آزادی ہم سے بعضوں بعضوں کو بالکل اسی طرح ہضم نہیں ہوئی جس طرح کتے کو گھی ہضم نہیں ہوتا۔ مگر ہمیں بلڈی کتے کی طرح آپ ہی کے پرکھوں نے تو پٹے میں باندھ کے رکھا تھا، اور پھر آپ نے ہمیں شاید اس امید پر چھوڑ دیا کہ اب یہ صرف سیٹی پر گیند پکڑ کے لائے گا اور شو شو کی آواز پر جسے کہوں گا اس کی ٹانگ پکڑ لے گا۔
مگر نہ تو آپ نے کسی سے پوچھا نہ کسی نے آپ کو بتایا کہ ہر کتا کتا نہیں ہوتا۔ ہر کتا صرف ہڈی پر ہی قناعت نہیں کرتا۔ لیکن حضور آپ تو پٹہ کھول بیٹھے تھے اور کتے کے منہ کو آزادی کا خون لگ چکا تھا، لہٰذا اب ایک ہی تدارک تھا کہ کتا مار مہم شروع کی جائے۔ اور پھر مہم شروع ہوگئی اور پھر اس ثوابِ جاریہ میں دیگر شکاری بھی ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’بولو کہ پہچانے جاؤ،‘ یہ قول ِعلی پچھلے چند دنوں سے مجھ جیسوں پر جیسا کھل رہا ہے، پہلے کبھی نہ کھلا تھا۔ اس آئینے میں ہر قلم باز اور قلم بازی گر، اپنا چہرہ، کلام، نیت، انداز اور اندرون دیکھ سکتا ہے (جیسا کہ وہ اصل میں ہے، نہ کہ جیسا نظر آتا ہے)۔
حضورِ والا، اب جب کہ یہ بھی کھل چکا ہے کہ بعض صحیفے نہ تو مقدس پنڈتوں کی اجازت کے بغیر کھولے جا سکتے ہیں، پڑھے جاسکتے ہیں، نہ سنے جاسکتے ہیں ورنہ کانوں اور زبان پر پگھلا سیسہ ڈال دیا جائے گا۔
اب جب کہ یہ یاددہانی بھی بارِ دگر کرائی جارہی ہے کہ قومی مفاد، قومی سلامتی، قومی وقار، قومی غیرت، حب الوطنی جیسی اصطلاحات (مع طے شدہ تشریحات) سے بس وہی استفادہ کرنے کا مجاز ہے جس کے پاس متعلقہ ادارے کا جاری کردہ لائسنس ہو اور اس لائسنس پر ایک اور ذمہ دار ادارے کے کسی مجاز افسر کے کاؤنٹر سائن بھی ہوں، مگر اس شرط کے ساتھ کہ مذکورہ اصطلاحات کے بے موقع، بے جا، غیر ذمہ دارانہ اور ذومعنی استعمالات کی صورت میں اجازت منسوخ بھی ہو سکتی ہے اور حد بھی جاری ہو سکتی ہے۔
حضور کیا ہی اچھا ہو کہ بار بار کے اس ٹنٹے کو ایک ہی بار نمٹانے کے لیے درجِ ذیل سفارشات کو بھی تحفظِ پاکستان ایکٹ کی طرح کسی اچھے سے ایکٹ کی شکل دے دی جائے۔
(ایک) اب کے بعد متعلقہ ذمہ دار اداروں کی چھان پھٹک کے نتیجے میں سالانہ بنیادوں پر جاری کردہ اجازت ناموں کے حامل اہلِ زبان کو ہی میڈیا پر گفتگو کا حق حاصل ہوگا۔
(دو) مضمون، اداریے، کالم، قطعہ اور سکرپٹ کے لیے صرف وہی قلم استعمال کیا جاوے گاجو آرمز ایکٹ کے تحت جاری کیا گیا ہو۔ نیز اسلحے کی مختلف کیٹگریز کی طرح قلم کی بھی درجہ بندی کی جاوے گی جیسے آتشیں، غیر آتشیں، خودکار، نیم خودکار، تیز دھار، کند، ممنوع، غیر ممنوع، وغیرہ۔
(زبان و قلم کی بابت پکا اجازت نامہ جاری کرنے سے پہلے تین یا چھ ماہ کا کچا اجازت نامہ جاری کیا جاوے گا تاکہ بولنے اور لکھنے والے کی ذات کا اندازہ ہو سکے)۔

،تصویر کا ذریعہAP
(تین) فی البدیہہ بولنا اور لکھنا یا فی البدیہہ اشارے کنائے کرنا یا ان کی نیت باندھنا بھی قابل ِ دست اندازیِ قانون جرم تصور ہو گا۔
(چار) ایسے اخبارات، ریڈیو، ٹی وی چینلوں اور ویب سائٹوں کی علیحدہ علیحدہ فہرست مرتب کر کے جلد شائع کی جائے گی جنھیں پڑھنا، سننا اور دیکھنا لازمی، واجب، غیر واجب نیز حلال، مکروہ یا حرام ہے۔
(پانچ) جو اخبارات و رسائل، ریڈیو و ٹی وی چینل ذمہ دارانہ رویے، قومی مفاد، حب الوطنی، تعمیری تنقید اور اداروں کے احترام کے طے شدہ گزیٹڈ معیارات و تشریحات پر مثالی عمل کریں گے انھیں توصیفی سرٹیفیکیٹ اور دیگر مناسب مراعات سے نوازا جائے گا تاکہ ذرائعِ ابلاغ کے مابین صحت مند مقابلے کی فضا پروان چڑھ سکے۔
(چھ) کرنسی نوٹوں کی طرح پرانے فرسودہ اخباری و نشریاتی لائسنسوں کو بھی فوری منسوخ کر کے انھیں جدید فول پروف فور جی لائسنس سے تبدیل کروانے کی سہ ماہی مہلت دی جائے گی۔ فور جی لائسنس کی عبارت میں صاف صاف چاروں جی نمایاں ہوں گے:
جی جی، ہاں جی، کمال ہے جی، واہ جی۔۔۔۔۔۔۔۔







