کراچی: خودکش حملے میں پولیس انسپکٹر سمیت چار افراد ہلاک

ایس ایچ او شفیق تنولی نے صحافی ولی بابر مقدمے کے ملزم کو گرفتار کیا تھا
،تصویر کا کیپشنایس ایچ او شفیق تنولی نے صحافی ولی بابر مقدمے کے ملزم کو گرفتار کیا تھا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی کے علاقے پرانی سبزی منڈی کے قریب خودکش حملے میں سابق ایس ایچ او شفیق تنولی سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

دھماکے سے قریبی دُکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

ایس ایس پی گلشن اقبال پیر محمد شاہ کا کہنا ہے کہ دھماکے میں خودکش بمبار سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حملہ آور کی عمر 17 سے 18 سال ہے۔

انھوں نے بتایا کہ شفیق تنولی اپنے گھر کے برابر میں واقع دکان میں دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ’خودکش بمبار آیا اور اس نے شفیق سے سلام دعا کرنے کے بعد ہاتھ ملایا اور دھماکہ کر دیا۔‘

شفیق تنولی کے بھائی رشید تنولی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے پولیس حکام پر الزام عائد کیا ہے کہ معطلی کے بعد ان کے بھائی سے سکیورٹی واپس لے لی گئی تھی۔

تاہم ایس ایس پی پیر محمد شاہ نے ان الزامات کو مسترد کیا اور بتایا کہ وہاں ایک بکتر بند گاڑی، پولیس موبائل اور 17 اہلکار تعینات ہیں۔

ایس ایس پی کے مطابق یہ پشتون آبادی کا گنجان آباد علاقہ ہے اور شفیق تنولی اسی علاقے میں پلے بڑھے ہیں۔

ایس ایس پی کے مطابق انھیں سکیورٹی گارڈ نے بتایا کہ حملہ آور ان کے سامنے گیا تھا، لیکن انھیں شبہ نہیں ہوا کیونکہ علاقے میں ہر شخص کی تلاشی نہیں لی جا سکتی۔

شفیق تنولی پر کچھ ماہ قبل جیل چورنگی کے نزدیک حملہ کیا گیا تھا، جس میں وہ زخمی ہوگئے تھے۔ ایس ایس پی پیر محمد شاہ کا کہنا ہے کہ اس وقت خودکش بمبار جو موٹر سائیکل پر سوار تھا، اور وہ اپنی بائیک شفیق کی ڈبل کیبن سے ٹکرانا چاہتا تھا لیکن بائیک سلپ ہوگئی اور دھماکہ ہوگیا جس سے شفیق زخمی ہو گئے۔

انھیں گذشتہ برس بھی سبزی منڈی کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا جس میں وہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ان کے بھائی نوید تنولی کو بھی گلشن 13 ڈی میں قتل کر دیا گیا تھا۔

پولیس اور رینجرز اہلکاروں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جب کہ بم ڈسپوزل سکواڈ نے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔

واضح رہے کہ شفیق تنولی کو کچھ عرصے قبل ہی آئی جی سندھ نے ڈیفنس میں ایک بنگلے پر چھاپہ مارنے پر معطل کر دیا تھا۔

گذشتہ سال 20 دسمبر کو سی آئی ڈی کے سابق انسپکٹر اور ایس ایچ او ماڑی پور شفیق تنولی پر حملہ کیا گیا تھا، جس میں وہ شدید زخمی اور دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ایس ایچ او شفیق تنولی نے صحافی ولی بابر مقدمے کے ملزم کو گرفتار کیا تھا۔

انھوں نے جب جیو جیوز کے صحافی ولی بابر کے قتل میں ملوث ملزم کو گرفتار کیا تھا تو ان کے چھوٹے بھائی کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا تھا۔

ایک انٹرویو میں شفیق تنولی نے بتایا تھا کہ انھوں نے جیسے ہی ولی بابر کیس کے ملزم کی گرفتاری ظاہر کرنے کے لیے پریس کانفرنس ختم کی تو ان کے پاس ایک ٹیلیفون آیا کہ جلد تمھیں انعام مل جائے گا۔ آٹھ گھنٹے کے بعد گلشن اقبال میں ان کے چھوٹے بھائی کو قتل کر دیا گیا۔

شفیق تنولی ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کی ٹیم میں بھی شامل رہے ہیں۔ وہ کالعدم تنظیموں کے کارکنوں کی گرفتاری کے علاوہ لیاری میں گینگ وار کے مبینہ سرغنہ ارشد پپو کو گرفتار کرنے والی ٹیم میں بھی شامل تھے۔