’تحفظِ پاکستان آرڈننس پیش کیوں نہیں کر رہے‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, ایوب ترین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے ایوانِ بالا سینٹ کے چیئرمین سید نیرحسین بخاری نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تحفظِ پاکستان آرڈننس کو جلد سینٹ میں پیش کردیں اور حکومت کی جانب سے ’وعدہ خلافی‘ کرنے پرشدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو منگل تک کی مہلت دے دی ہے۔
پیر کی شام جب چیئرمین سینٹ کی صدارت میں شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کے سنیٹر میاں رضا ربانی نے نکتہ اعتراض پر کھڑے ہو کر کہا کہ حکومت نے گذشتہ سیشن میں یقین دہانی کروائی تھی کہ تحفظ پاکستان آرڈننس کوسینٹ میں پیش کیا جائےگاجو تاحال یہاں نہیں لایاگیا ہے۔
رضا ربانی کا کہنا تھا کہ اس سے نہ صرف اس ایوان کا استحکاک مجروع ہوا ہے بلکہ چیئرمین کے فیصلے کی بھی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت تحفظ پاکستان آرڈننس کو موجودہ سیشن میں نہیں لائی تو حزِب اختلاف کو احتجاج کا حق ہے۔
میاں رضا ربانی نے چیئرمین سینٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے قومی اسمبلی میں آرڈننس کو پیش کر کے منظور کرا دیا ہے لیکن وفاق کے ایک اہم ادارہ یعنی سنیٹ میں اس آرڈننس کو لانے میں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔
حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے سنٹیر راجہ ظفرالحق نے ایوان کو بتایا کہ میری کوشش تھی کہ آرڈننس کو گذشتہ اجلاس میں پیش کرتا لیکن سیشن مقررہ وقت سے ایک دو دن قبل ہی ختم ہوگیا تھا۔
اس پر چیئرمین سینٹ سید نیر بخاری نے راجہ ظفرالحق سے آرڈننس سے متعلق پوچھا کہ یہ کوئی خفیہ دستاویز ہے جسے سینٹ میں پیش کرنے سے حکومت کترا رہی ہے۔
راجہ ظفرالحق نے ایوان کو بتایا کہا کہ یہ کوئی خفیہ دستاویز نہیں ہے بلکہ تمام اخبارات میں شائع ہوچکا ہے لیکن وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی اسلام آباد میں غیر موجودگی کے باعث آرڈننس کو پیر کے روز سینٹ میں پیش نہیں کرسکا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چیئرمین سینٹ نے بعد میں سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے راجہ ظفرالحق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ منگل تک اس بارے میں رپورٹ پیش کریں بصورت دیگر متعلقہ کمیٹی سے رجوع کیا جائےگا۔
انھوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ سرکاری افسران کام نہیں کر رہے یا مذکورہ وزیر کی اس میں دلچسپی نہیں ہے یا حکومت اس ایوان کو توجہ دینے کی موڈ میں نہیںب۔
یہاں دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ سینٹ میں ارکان کی کل تعداد ایک سو چار ہے جس میں ستر کا تعلق حزب اختلاف کی جماعتوں سے ہے جبکہ حکومت اور اتحادی جماعتوں کی تعداد تیس کے قریب ہے۔







