تحفظ پاکستان آرڈیننس سینیٹ کے سیشن میں پیش ہو گا

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ایوب ترین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے ایوانِ بالا سینٹ کا سیشن پیر کو دوبارہ شروع ہو رہا ہے جس میں امکان ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف تحفظِ پاکستان آرڈیننس منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔
پاکستان کی حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے اس آرڈیننس کی سخت مخالفت کی ہے۔
<link type="page"><caption> جوہری تحفظ قومی سلامتی سے منسلک ہے: نواز شریف</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/03/140324_nuclear_safety_fz.shtml" platform="highweb"/></link>
سینیٹ کے چیئرمین سید نیر بخاری کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشاہد حسین سید سائبر سیکورٹی بل سال 2014 پیش کریں گے۔
اس کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر افراسیاب خٹک اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر ایک مشترکہ قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور متاثرہ علاقوں کو دہشت گردی سے فوری طور پر پاک کرنے پر زور دے۔
خیال رہے کہ حکومت ملک میں دہشت گردی کےخلاف تحفظ پاکستان آرڈیننس پہلے ہی قومی اسمبلی سےسادہ اکثریت کے ساتھ پاس کروا چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سینیٹ سے منظوری کی صورت میں مذکورہ آرڈیننس فوری طور پر ملک بھر میں نافذ ہوجائےگا، جس کا اطلاق ان افراد پر بھی ہوگا جو 2013 سے سیکورٹی اداروں کے زیرحراست ہیں۔
یاد رہے کہ جب قومی اسمبلی سے مذکورہ آرڈیننس منظور ہوا تواس وقت نہ صرف حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی، تحریکِ انصاف، عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم نے مشترکہ طور پر اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ایوان سے واک آوٹ کیا تھا، بلکہ حکومت کی اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام ف نے بھی اس آرڈیننس کو کالا قانون قراردیتے ہوئے اس کی بھرپور مخالفت کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حزب اختلاف کی جماعتوں نے قومی اسمبلی سے آرڈیننس پاس ہونے کے بعد خبردار کیا ہے کہ جب حکومت مذکورہ قانون کو منظوری کے لیے سینٹ میں لائےگی تواس کی بھر پور مخالفت کی جائےگی۔ قومی اسمبلی کے مقابلے سینیٹ میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو حکومتی جماعت مسلم لیگ ن پر واضح اکثریت حاصل ہے۔
تاہم بعض قانونی ماہرین کے مطابق سینیٹ سے ناکامی کی صورت میں حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ تحفظ پاکستان آرڈننس کومنظوری کے لیے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کرے جہاں مسلم لیگ ن اور ان کی اتحادی جماعتوں کو سادہ اکثریت حاصل ہے۔







