خیبر ایجنسی: نیٹو آئل ٹینکر پر حملہ، ڈرائیور ہلاک

گذشتہ ماہ بھی خیبر ایجنسی ہی کے علاقے میں دو نیٹو گاڑیوں پر ہونے والے حملے میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ ماہ بھی خیبر ایجنسی ہی کے علاقے میں دو نیٹو گاڑیوں پر ہونے والے حملے میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ نیٹو افواج کو تیل فراہم کرنے کے لیے جانے والے آئل ٹینکر پر حملہ کیا گیا ہے جس میں ٹینکر کے ڈرائیور ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات کی صبح جمرود کے علاقے بائی پاس روڈ پر پیش آیا۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں تعینات نیٹو اتحادی افواج کو تیل کی فراہمی کے لیے جانے والا آئل ٹینکر پشاور سے افغانستان جا رہا تھا کہ جمرود تحصیل کے علاقے میں مسلح افراد کی طرف سے گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ حملے میں ٹینکر کے ڈرائیور ہلاک ہوگئے ہیں۔

سرکاری اہلکار کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ مرنے والے ڈرائیور کا تعلق پنجاب کے ضلع خوشاب سے بتایا جاتا ہے۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ نیٹو گاڑیوں پر حملوں کی وجہ سے گذشتہ کچھ عرصے سے تورخم کے راستے سے افغانستان جانے والے آئل ٹینکروں کی آمد و رفت میں کمی واقع ہوئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے نیٹو سپلائی کی بحالی کے بعد ٹرکوں کا آنا جانا شروع ہوا تھا تاہم سکیورٹی خدشات کے باعث آئل ٹینکروں کی آمد و رفت بند تھی۔

ان کے مطابق نیٹو سپلائی کھلنے کے بعد کسی آئل ٹینکر پر یہ اپنی نوعیت کا پہلہ حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ بھی خیبر ایجنسی ہی کے علاقے میں دو نیٹو گاڑیوں پر ہونے والے حملے میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہےکہ گذشتہ سال نومبر کے ماہ میں خیبر پختون خوا میں حکمران جماعت تحریک انصاف کی طرف سے نیٹو سپلائی پر پابندی لگائی گئی تھی جس کے بعد تقریباً تین ماہ تک ان گاڑیوں پر حملوں میں کمی واقع ہوئی تھی۔