نیٹو سپلائی کی بندش ختم کرنے کا اعلان

تحریک انصاف کے کارکن افغانستان جانے والے ٹیٹو ٹینکروں کو روک رہے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنتحریک انصاف کے کارکن افغانستان جانے والے ٹیٹو ٹینکروں کو روک رہے تھے

پاکستان تحریک انصاف نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں تین ماہ تک جاری رہنے والی نیٹو سپلائی کی بندش کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے

جمعرات کو پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری کردہ تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے قانون کی بالادستی اور اعلیٰ عدلیہ کے احترام میں اپنے عزم کی وجہ سے نیٹو سپلائی کی بندش ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی نے افغانستان جانے والے ٹرانزٹ ٹریڈ کے سامان کی بندش سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر بات چیت کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کور کمیٹی نے یہ محسوس کیا ہے کہ نیٹو سپلائی بند کرنے کی وجہ سے دباؤ پڑا اور اس کا نتیجہ اوباما انتظامیہ کی ڈرون حملوں سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کی صورت میں نکل چکا ہے اور ابھی ڈرون حملے بند ہو چکے ہیں۔

پی ٹی آئی کی جانب سے جاری تحریری بیان میں یہ بھی یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ ’پہلے یہ پی ٹی آئی ہی تھی جس نے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی گروہوں کی مدد سے ڈرون کے خلاف وزیرستان تک مارچ کیا۔‘

نیٹو سپلائی کے ٹینکروں سے ہزاروں پاکستان کا روزگار بھی وابستہ ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشننیٹو سپلائی کے ٹینکروں سے ہزاروں پاکستان کا روزگار بھی وابستہ ہے

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت امریکی ڈرون حملوں کے خلاف پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وفاقی حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ نیٹو سپلائی بند کرے حتی کہ اگر امریکہ ڈرون حملے بند نہ کرے تو ڈرون کو گرا دے۔‘

یاد رہے کہ منگل کے روز پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان سے افغانستان آنے جانے والی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی گاڑیوں کو روکنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

عدالت نے صوبائی حکومت کو حکم جاری کیا کہ وہ پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنوں کی جانب سے ان گاڑیوں کو روکنے کے اقدام کا سختی سے نوٹس لے۔

پشاور کے رامپورہ گیٹ کے تاجروں کے ایک نمائندے حاجی لعل محمد نے ہائی کورٹ کے وکیل شاہ نواز خان کی توسط سے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ایک رٹ درخواست دائر کی تھی۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال نومبر میں خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں ایک مدرسے پر ہونے والے امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں ہلاکتوں کے بعد برسرِاقتدار سیاسی جماعت تحریکِ انصاف نے نیٹوگاڑیوں کی آمدورفت روک دی تھی۔

تحریکِ انصاف کے کارکنوں نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی بعض گاڑیوں کو اتحادی افواج کا سامان لے جانے والی گاڑیاں سمجھ کر انھیں روکا اور ڈرائیوروں پر تشدد بھی کیا۔

ان واقعات کے بعد پولیس نے تحریک انصاف کے کچھ کارکنوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے۔