’یونائٹڈ بلوچ آرمی کا دعوی مضحکہ خیز ہے‘

پولیس کے آئی جی خالد خٹک کے مطابق یہ سبزی منڈی علاقے کی بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے اور یہاں کئی مختلف علاقوں سے پھلوں اور سبزیوں کے تاجر آتے ہیں
،تصویر کا کیپشنپولیس کے آئی جی خالد خٹک کے مطابق یہ سبزی منڈی علاقے کی بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے اور یہاں کئی مختلف علاقوں سے پھلوں اور سبزیوں کے تاجر آتے ہیں

پاکستان کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی سبزی منڈی میں کل ہونے والے دھماکے میں کالعدم یونائٹڈ بلوچ آرمی کا ہاتھ نہیں اور کالعدم تنظیم کا یہ دعوی مضحکہ خیز ہے۔

یونائٹڈ بلوچ آرمی کے ایک ترجمان نے بم دھماکے کے بعد کوئٹہ کے صحافیوں کو فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور کہا تھا کہ یہ بلوچستان میں جاری فوجی کارروائیوں اور جبری گمشدگیوں اور بلوچ سیاسی کارکنوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کا ردعمل تھا۔

بدھ کی صبح اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 11 میں واقع سبزی منڈی میں دھماکے کے نتیجے میں 22 افراد ہلاک اور 80 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

بدھ کی شب وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں انسداد دہشت گردی کے ادارے نیکٹا کو اسلام آباد کو محفوظ بنانے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کرنے کے لیے کہا گیا۔ اس کے علاوہ وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ کو فوری طور پر سبزی منڈی کا انتظام سنبھالنے کا حکم دیا۔ اجلاس میں شہر میں افغان کچی بستویوں میں مقیم باشندوں کی معلومات اکھٹا کرنے کی ہدایت کی تاہم اس آبادی کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنا یا اس کو گرانے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

اجلاس میں ریجنرز اور اسلام آباد پولیس کے شہر میں مشترکہ گشت سے متعلق بھی فیصلہ کیا گیا۔

مختلف سرکاری اہلکاروں کی جانب سےسبزی منڈی میں ہونے والے دھماکے کے حوالے سے اسسٹنٹ آئی جی اسلام آباد سلطان عاظم تیموری نے بتایا ہے کہ اس حملے میں تقریباً پانچ کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق دھماکہ خیز مواد امرودں کی پیٹیوں میں رکھا گیا تھا۔

ادھر تحریکِ طالبان پاکستان نے اس دھماکے کے علاوہ پیر کو سبی کے ریلوے سٹیشن پر ہونے والے حملے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مذمت کر دی ۔

روزگار کی تلاش میں سرگرداں لوگ جن کی متاع لٹ گئی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنروزگار کی تلاش میں سرگرداں لوگ جن کی متاع لٹ گئی

وزیر داخلہ چوہدری نثار نے طالبان کی طرف سے لاتعلقی کا اظہار کرنے کے بارے میں کہا کہ تفتیش کے بغیر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کون ذمہ دار ہے اور کون نہیں۔

وزیر داخلہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سزی منڈی کے مرکزی راستے پر لگائے گئے ’ڈیٹیکٹر‘ ناقص ہیں اور ان سے بارود کا پتا نہیں چلایا جا سکتا۔

قبل ازیں اسلام آباد پولیس کے آئی جی خالد خٹک نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’ یہ سبزی منڈی علاقے کی بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے اور یہاں ملک کے دور دراز علاقوں اور چاروں صوبوں سے پھلوں اور سبزیاں فروخت کے لیے لائی جاتی ہیں جن کے خریدار تاجر اسلام آباد راولپنڈی اور گردو نواح کے علاقوں سے آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منڈی میں صبح سویرے ہی نیلامی شروع ہو جاتی ہے اور آج بھی یہ واقعہ ایک نیلامی کے دوران پیش آیا۔‘

جائے وقوعہ سے بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جس وقت یہ دھماکہ ہوا اُس وقت وہاں سات سو کے لگ بھگ افراد موجود تھے۔ زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو پھلوں کی ریڑھیوں پر ڈال کر سڑک پر لایا گیا جہاں سے اُنھیں گاڑیوں میں ہسپتال لے جایا گیا۔

نامہ نگار کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد کا ترقیاتی ادارہ سی ڈی اے سبزی منڈی میں گاڑیوں کی پارکنگ کے علاوہ سبزیوں اور پھلوں سے لدی ہوئی گاڑیوں کے منڈی میں داخلے کی مد میں 120 روپے فی گاڑی کے حساب سے سالانہ تین کروڑ روپے سالانہ کا معاوضہ وصول کرتا ہے۔

اس سے پہلے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں بھی اسی سبزی منڈی میں دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں ایک سو کے قریب افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اُس واقعے کے بعد سبزی منڈی کے اطراف میں دیوار تعمیر کرنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔