پرویز مشرف کے لیے متعین راستے پر دھماکہ

دھماکہ خیز مواد پانی کی پائپ لائن میں رکھا گیا تھا: ایس پی اسلام آباد لیاقت نیازی

،تصویر کا ذریعہother

،تصویر کا کیپشندھماکہ خیز مواد پانی کی پائپ لائن میں رکھا گیا تھا: ایس پی اسلام آباد لیاقت نیازی
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جمعرات کی صبح اُس راستے ایک دھماکہ پر ہوا ہے جہاں سے سابق صدر پرویز مشرف کو ہسپتال سے ان کے فارم ہاؤس منتقل کیا جانا تھا۔

اس دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق پرویز مشرف کو راولپنڈی کے اے ایف آئی سی ہسپتال سے ان کے فارم ہاؤس لے جایا جا رہا تھا کہ اسلام آباد ہائی وے پر فیض آباد کے مقام پر ان کی آمد سے بیس منٹ قبل یہ دھماکہ ہوا۔

پولیس کے مطابق دھماکے میں چار کلو وزنی باروی مواد استعمال کیا گیا اور واقعے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔

یہ مقدمہ ¾ ایکسپلوسیو ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے جبکہ حکومتی سطح پر اس واقعے کی تحققیات شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم ابھی تک اس ضمن میں کوئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل نہیں دی گئی۔

ایس پی اسلام آباد لیاقت نیازی نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ خیز مواد پل کے نیچے پانی کی پائپ لائن میں رکھا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی وے مصروف شاہراہ ہے جہاں پر رات گئے ٹریفک رواں دواں رہتی ہے اس کے علاوہ علاقے میں پولیس اہل کار تعینات رہتے ہیں۔

پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے کہ پولیس کی موجودگی میں کس وقت نامعلوم افراد دھماکہ خیز مواد نصب کر کے چلے گئے۔

لیاقت نیازی کے مطابق یہ دھماکہ سابق صدر پرویز مشرف کو ان کے فارم ہاؤس منتقل کرنے سے 20 منٹ پہلے ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے سے تین فٹ گڑھا پڑ گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق اس واقعے کے بعد سابق صدر کو دوسرے راستے سے لے جایا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ دھماکہ خیز مواد نصب کرنے کا مقصد پرویز مشرف کے قافلے کو نشانہ بنانا تھا اور اس ضمن میں تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق جن پولیس اہلکاروں کو سابق فوجی صدر کے راستے پر تعینات کیا گیا تھا اُن کی پہلے سے خفیہ اداروں نے چھان بین کر رکھی تھی۔

پرویز مشرف کے اپنے فارم ہاؤس میں منتقلی کے لیے ان کی حفاظت کے لیے تعین کیے گئے راستے سے پہلے بم ڈسپوزل سکواڈ نے علاقے کی اُس طرح سکینگ نہیں کی تھی جس طرح ان کی مختلف مقدمات میں عدالت میں پیشی کے موقع پر کی جاتی تھی۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل وزارتِ داخلہ کے ادارے نیشنل کرائسس مینجمنٹ سیل نے خفیہ اداروں کی ایک رپورٹ پر سکیورٹی الرٹ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پرویز مشرف کی عدالت میں پیشی کے موقعے پر ان کے متعین راستے کے دوران ان پر ممکنہ حملہ ہوسکتا ہے۔

اسلام آباد کی خصوصی عدالت میں 31 مارچ کو جاری غداری کے مقدمے میں پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر فردِ جرم عائد کی تھی۔

وہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے شخص ہیں جن کے خلاف آئین شکنی کے الزام کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔

سابق فوجی صدر کی جانب سے 31 مارچ کو خصوصی عدالت کی طرف سے آئین شکنی کے مقدمے میں اُن پر فرد جُرم عائد کیے جانے کے بعد اُن کے وکلا نے وزارت داخلہ کو پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے وزارت داخلہ کو درخواست دی تھی جسے وزارتِ داخلہ نے مسترد کر دیا تھا۔

اس سے قبل 24 دسمبر کو عدالت میں ان کی پیشی پر بھی اسی مقام کے قریب سے بارود کے پیکٹ اور دو پستول ملے تھے۔ عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے سابق صدر کو اس پیشی کے لیے عدالت میں آنے سے مستثنیٰ قرار دیا تھا۔