حب: بسوں اور ٹینکروں میں تصادم سے 38 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے صوبے بلوچستان کی تحصیل حب میں مسافر بسوں اور آئل ٹینکرز میں تصادم کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 38 ہو گئی ہے جن میں شدید جھلسنے کے باعث کئی لاشوں کی شناخت ممکن نہیں رہی۔
تفصیلات کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی بسیں کوئٹہ سے کراچی اور تربت سے کراچی جارہی تھیں اور زیادہ جانی نقصان تربت سے کراچی جانے والی بس میں ہوا ہے۔
لسبیلہ کے ڈی پی او احمد نواز چیمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پہلے ایک بس ٹینکر سے ٹکرائی جس کے بعد پیچے سے آنے والی بس بھی ایک دوسرے ٹینکر سے ٹکرا گئی۔ دونوں حادثے قدرے فاصلے پر ہوئے تاہم یقیناً پہلا حادثہ ہی دوسرے حادثے کی وجہ بنا ہے۔‘
سرکاری ذرائع اور ایدھی کے رضا کاروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ لاشیں برح طرح سے جھلس گئی ہیں اور انہوں نے سروں کی گنتی سے 28 افراد کے ہلاکت ہونے کی تصدیق کی ہے۔
حادثہ کراچی کے قریب بلوچستان کے سرحدی علاقے گڈانی میں باگڑ میں پیش آیا۔
بتایا گیا ہے کہ بسوں کے نیچے کافی بڑے تیل کے ٹینک نصب تھے اور حادثے کے بعد یہ بھی پھٹ گئے اور انہی کی وجہ سے زیادہ آگ لگی جس کے بعد آگ پر قابو تو پا لیا گیا تاہم متعدد لوگ بروقت بسوں سے باہر نہ آسکنے کی وجہ سے بری طرح جھلس گئے۔
لسبیلہ کے ڈی پی او احمد نواز چیمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ بسوں اور ٹینکروں پر سوار افراد سمیت کم سے کم 21 لاشیں نکالی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 21 لاشوں اور 2 زخمیوں کو کراچی منتقل کیا گیا ہے جبکہ بعض لاشیں بری طرح جھلسنے کے بعد ایک دوسرے سے جڑ گئی ہیں اس لیے ہلاک شدگان کی صحیح تعداد فوری طور پر نہیں بتائی جا سکتی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے گڈانی پولیس اسٹیشن کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کے صبح پانچ بجے کے بعد بظاہر چڑھائی پر جاتے ہوئے دو بسیں آئیل ٹینکر سے ٹکرا گئیں۔
حب اور گڈانی کے پولیس اور سرکاری اہلکار جائے حادثہ پر پہنچے ہیں تاہم وہاں مواصلاتی نظام نہ ہونے کے باعث کسی سے فون پر رابطہ ممکن نہیں۔
کوئٹہ میں نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق صوبہ بلوچستان کے ہسپتالوں میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے کوئی سہولیات نہیں ہیں لہذا بعض سرکاری اہلکاروں کے مطابق زخمیوں کو کراچی لے جایا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے ایک حکم میں صوبے بھر میں گاڑیوں کے لیے شاہراہوں پر حدِ رفتار مقرر کرنے کا بھی حکم دے رکھا ہے تاہم اس پر بھی کوئی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔







