’ نجکاری سے بے روزگار ملازمین کے لیے خصوصی پیکیج‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وزیرِمملکت برائے نجکاری محمد زبیر نے کہا ہے کہ سرکاری اداروں کی نجکاری سے بے روزگار ہونے والے ملازمین کو رضاکارانہ دستبرداری کا خصوصی پیکیج دیا جائے گا۔
بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں محمد زبیر نے کہا کہ پاکستان کی قومی ایئر لائن کے ملازمین کے لیے اس پیکیج کی تیاری شروع کر دی گئی ہے جبکہ باقی اداروں کے لیے علیحدہ پیکیج تیار کیے جائیں گے۔
’ہم ہر یونٹ کے لیے علیحدہ پیکیج تیار کر رہے ہیں کیونکہ ہر ادارے کے اپنے مسائل اور ترجیحات ہیں۔ ایک پالیسی نجی شعبے کو دیے جانے والے ہر یونٹ پر یکساں طور پر لاگو نہیں ہو سکتی۔‘
انھوں نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نجکاری بورڈ نے اس ادارے کی نجکاری کا جو طریقۂ کار منظور کیا ہے اس کے مطابق پی آئی اے کو نجکاری سے قبل مختلف کمپنیوں میں تقسیم کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا: ’سب سے پہلے ہم پی آئی اے کے کور بزنس کو ایک سبسڈری بنا کر اس کی نجکاری کریں گے اور اس میں جو اضافی ملازمین ہیں انھیں پی آئی اے کی باقی بچنے والی کمپنی (ہولڈنگ) میں منتقل کر دیں گے۔‘
نجکاری کمیشن کے سربراہ کے مطابق اس طریقے سے پی آئی اے کی نجکاری سے دو فائدے ہوں گے۔ ایک تو یہ کہ ملازمین اضافی یا سرپلس قرار نہیں دیے جائیں گے اور دوسرا یہ کہ کمپنی خریدنے والوں کو بھی ان اضافی ملازمین کا بوجھ نہیں اٹھانا پڑے گا۔
وزیرِمملکت کے مطابق ’ایسا کرنے سے نجی شعبے میں جانے والی کمپنی کے نئے مالکان کو ضرورت کے مطابق ملازمین ملیں گے اور ان کی چھانٹی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح پی آئی کو مختلف کمپنیوں میں تقسیم کر کے ایک ایک کر کے فروخت کیا جائے گا۔ ان میں زمینی عملہ، باورچی خانہ اور کیٹرنگ، ملک میں اور ملک سے باہر پی آئی اے کے ہوٹل وغیرہ شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمد زبیر کے مطابق ان تمام کمپنیوں میں اضافی ملازمین کو آہستہ آہستہ ایک جگہ جمع کیا جائے گا اور پھر انھیں رضاکارانہ دستبرداری (والنٹری سیپریشن) کا پیکیج پیش کیا جائے گا۔
نجکاری کمیشن کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کا ادارہ اضافی قرار دیے گئے ملازمین کو تربیت کے مواقع فراہم کرنے پر بھی غور کر رہا ہے تاکہ ان ملازمین کی صلاحیتیں بڑھا کر انھیں دوبارہ ملازمت کے قابل بنایا جا سکے۔
محمد زبیر نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ ایک بھی ملازم روزگار سے محروم نہ ہو لیکن 18 کروڑ لوگوں کی بہتری کے لیے چند ہزار افراد کو قربانی دینا ہو گی۔‘
نجکاری کمیشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے انہیں 68 سرکاری اداروں کی نجکاری کرنے کا کام سپرد کیا ہے جو انھیں دو برس میں مکمل کرنا ہے۔ تاہم انھوں نے کہا: ’یہ بہت مشکل کام ہے اور اس میں دو برس سے زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے۔‘







