طالبان اور حکومتی مذاکرات کاروں میں رابطے

،تصویر کا ذریعہGetty
حکومت اور طالبان کے مذاکرات کاروں کے درمیان بدھ کو دوبارہ رابطے ہوئے ہیں اور فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
طالبان کمیٹی کے رابطہ کار یوسف شاہ نے پشاور میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ اُن کا حکومت سے رابطہ ہوا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ مذاکرات میں ڈیڈلاک یا تعطل پیدا ہو۔
یاد رہے کہ منگل کو حکومتی کمیٹی کی وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد طالبان کی طرف سے تشدد بند کرنے کا واضح اعلان آنے تک مذاکرات معطل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
طالبان کمیٹی کے رابطہ کار مولانا یوسف شاہ نے پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب میں بتایا کہ ’مجھ سے حکومتی کمیٹی کے ممبران نے بھی رابطہ کیا ہے، اور وزیرداخلہ چوہدری نثار سے ٹیلی فون پر تفصیلی بات ہوئی ہے۔‘
مولانا یوسف شاہ کا کہنا تھا کہ اب تک جو بھی ہوا ہے، اس کے باوجود چوہدری نثار چاہتے ہیں کہ بات چیت آگے بڑھے۔
انھوں نے بتایا کہ ان کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق سے بھی موجودہ صورتِ حال پر بات ہوئی ہے جو براہ راست طالبان کے ساتھ رابطے میں ہیں: ’مولانا براہ راست طالبان سے رابطے میں ہیں اور وہ وقتاً فوقتاً ان کی راہنمائی کرتے ہیں اور مشورے دیتے ہیں۔‘
طالبان کمیٹی کے رابطہ کار نے حکومتی کمیٹی اور وزیرداخلہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ بھی اس آگ کو بجھانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔ انھوں نے کہا ’اس آگ کو بجھانا ہے اور اس میں سب نے اپنا حصہ ڈالنا ہے۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ روز حکومت کی مذاکراتی کمیٹی نے وزیرِ اعظم کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ پرتشدد کارروائیوں کے خاتمے تک طالبان سے مذاکرات کرنے سے ’قاصر‘ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومتی کمیٹی سے ملاقات کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے آرمی چیف سے بھی اہم ملاقات کی تھی تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اب بھی مذاکراتی عمل سے ناامید نہیں۔
وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان ملاقات کے بارے میں حکومت اور فوج دونوں طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس ملاقات میں طالبان کی طرف سے حالیہ دنوں پر سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں پر غور کیا گیا۔
گذشتہ روز طالبان ذرائع اور طالبان کی کمیٹی نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ طالبان کے تقریباً تمام دھڑے جنگ بندی کے لیے تیار ہیں، صرف اکا دکا مخالفت کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اتوار کو رات گئے تحریکِ طالبان مہمند ایجنسی کے رہنما عمر خالد خراسانی کی جانب سے میڈیا کو ارسال کیے گئے پیغام میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کی تنظیم نےجون سنہ 2010 میں اغوا کیے جانے والے 23 اہل کاروں کو ہلاک کر کے دفن کر دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد پیر کو حکومتی کمیٹی نے طالبان کمیٹی کے ساتھ ملاقات کرنے سے معذرت کی تھی ۔
گذشتہ روز بھی پشاور کے نیم قبائلی علاقے میں شدت پسندوں نے کارروائی کر کے ایک میجر کو ہلاک کر دیا تھا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس جھڑپ میں تین شدت پسند ہلاک ہو گئے۔







