’عدالت فیصلہ کرے کہ ریاست کی توہین ہوئی یا نہیں‘

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ کسی فردِ واحد کے خلاف مقدمہ نہیں اور اس میں اصل مدعی پاکستان کی ریاست ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالت کو ہی فیصلہ کرنا ہے کہ تین نومبر کو ریاست کی توہین ہوئی ہے یا نہیں۔
جمعرات کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ مشرف کو غداری کے مقدمے میں اسلام آباد میں خصوصی عدالت کے سامنے پیشی کے لیے طلب کیا گیا تھا لیکن انھیں دل کی تکلیف کے باعث راولپنڈی میں فوج کے ادارے برائے امراض قلب میں منتقل کر دیا گیا جہاں وہ اس وقت زیرعلاج ہیں۔
پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت اور ان کے بیمار ہونے کے بعد وزیراعظم نواز شریف کا یہ پہلا بیان تھا۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق نواز شریف نے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’چونکہ معاملہ عدالت کے سامنے ہے اس لیے ان کا کچھ کہنا مناسب نہ ہو لیکن اس مقدمے کے میرٹ سے ہٹ کر یہ ضرور کہوں گا کہ اس مقدمے میں اصل مدعی پاکستان کی ریاست اور آئین ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ عدالت نے یہ طے کرنا ہے کہ تین نومبر کا اقدام آئین کے آرٹیکل 6 کے دائرے میں آتا ہے کہ نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’یہ مقدمہ فردِ واحد کا نہیں ہے، تاریخ کے اس موڑ پر اس بات کا فیصلہ بھی ہونا چاہیے کہ ہم اپنا آئین قانون اور نظامِ انصاف رکھنے والی ایک مہذب جمہوری ریاست ہیں کہ نہیں۔ اگر قانون کی نظر میں ہر شہری برابر ہے تو ہر شہری کو عدالت کے سامنے جوابدیہ بھی ہونا چاہیے۔ یہ فیصلہ کرنا عدالت کا کام ہے کہ وہ معصوم ہے یا مجرم۔‘
دوسری جانب مقامی ذرائع ابلاغ میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو عدالت جاتے ہوئے راستے میں پیدا ہونے والی دل کی تکلیف کے علاج کے لیے بیرون ملک چلے جانے کی قیاس آرائیوں کا طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔
انھی قیاس آرائیوں کے درمیان ہی سعودی وزیر خارجہ کی سنیچر کو پاکستان آمد کی خبر کے ساتھ ہی افواہ ساز فیکٹری کی پیداوار میں شدت پیدا ہو گئی۔ ہر ٹی وی ٹاک شو اور اخبار میں یہی خبر زیر بحث ہے۔

اس سے پہلے جمعرات کو ہی پرویز مشرف کی ناسازیِ طبع کی وجہ سے اسلام آباد میں ان کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے ان کی گرفتاری کے احکامات نہ دینے اور حاضری سے استثنیٰ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ چھ جنوری کو آئندہ سماعت پر اس معاملے کو دوبارہ سنے گی۔
یاد رہے کہ سابق فوجی صدر کے خلاف آئین توڑنے کے الزام میں غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے ابھی ان پر فردِ جرم عائد کرنا ہے۔
وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کے خلاف آئین توڑنے اور تین نومبر سنہ 2007 کو ملک میں ایمرجنسی لگانے پر غداری کا مقدمہ شروع کرنے کی استدعا کی تھی۔ پاکستانی آئین کی دفعہ چھ کی خلاف ورزی کرنے کی سزا موت اور عمر قید ہے۔







