حلقہ بندیوں سے متعلق ترمیم غیر آئینی ہے: سندھ ہائی کورٹ

- مصنف, محمد عبداللہ فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سندھ ہائی کورٹ نے صوبے میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے حلقہ بندیوں سے متعلق سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں کی جانے والی ترمیم کو غیر آئینی و غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
کراچی میں پیر کو جسٹس سجاد علی شاہ نے عدالت کے دو رکنی ڈویژنل بینچ کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔
فیصلے میں مقامی حُکومتوں کے ترمیمی بل 2013 کی تیسری ترمیم کو سندھ لوکل باڈیز ایکٹ 2013 سے متصادم قرار دیتے ہوئے اُسے غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ اس ترمیم کی رو سے یونین کونسلوں کی جگہ یونین کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں۔
یہ فیصلہ سندھ لوکل باڈیز ترمیمی بل دوہزار تیرہ کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ، ظفر علی شاہ، سید مرید علی شاہ اور دیگر سیاست دانوں کی جانب سے دائر کردہ چودہ مختلف درخواستوں کو یکجا کر کے دیا گیا ہے۔
فیصلے میں رواں برس 13 اور 21 نومبر کو جاری کیے جانے والے نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دے دیے گئے ہیں جو حیدرآباد، میر پور خاص، سکھر، لاڑکانہ اور کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کے تناظر میں جاری کیے گئے تھے۔
سندھ ہائی کورٹ نے حُکم دیا ہے کہ صوبے میں مقامی حُکومتوں کے انتخابات 18 جنوری کو اُسی صورتحال میں کرائے جائیں جو 2013 میں نئی حلقہ بندیوں کی تشکیل سے قبل تھی۔
عدالتی حُکم کے مطابق اگر سندھ حُکومت یہ سمجھتی ہے کہ انتخابات سے قبل حلقہ بندیاں ضروری ہیں تو وہ سپریم کورٹ آف پاکستان اور الیکشن کمیشن سے انتخابات کی تاریخ میں توسیع کے لیے درخواست کرے۔
عدالت نے یہ تجویز بھی دی ہے اگر نئی حلقہ بندیوں کے لیے سپریم کورٹ سے سندھ میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کی تاریخ میں توسیع کی اجازت مل جاتی ہے تو صوبائی حکومت ایک آزاد کمیشن بنائے جو تمام تر قوانین اور ضابطۂ کار کے مطابق حلقہ بندیوں کے معاملے کو دیکھے اور ایک آزاد فورم فراہم کرے جہاں حلقہ بندیوں سے متعلق اپیلوں کی سماعت ہو سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ ایم کیو ایم نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں کے تحت کراچی میں دیہی اور شہری علاقوں کو تقسیم کر دیا گیا اور جہاں کراچی کی شہری حدود میں 40 سے 50 ہزار آبادی پر مشتمل یونین کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں وہیں شہر کے مضافاتی دیہی علاقوں میں 10 سے 15 ہزار کی آبادی پر مشتمل یونین کونسلوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔
عدالت سے ملیر اور کراچی غربی کی 25 یونین کمیٹیوں کی از سر نو تشکیل کا حکم دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔
سندھ کی صوبائی اسمبلی نے رواں برس اگست میں نئے بلدیاتی نظام کے بل کی منظوری دی تھی جس کے تحت کراچی، حیدرآْباد، سکھر اور لاڑکانہ میں میٹروپولیٹن کارپوریشنز کے قیام کے علاوہ کراچی میں پانچ ضلع کونسلوں کا قیام بھی عمل میں لایا جانا تھا۔
ایم کیو ایم نے اسے 1979 کے لوکل باڈیز ایکٹ کا چربہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا یہ ایک فرسودہ اور گلا سڑا نظام ہے جس میں ذمہ داریاں تو مقامی حکومت کو دی جاتی ہیں، لیکن انہیں اختیار نہیں دیا جاتا۔
پاکستان میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں نافذ ہونے والے بلدیاتی نظام کی مدت پوری ہونے کے بعد اب تک بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکے۔
اٹھارہویں ترمیم کی منظوری کے بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری قرار دی گئی ہے اور اور اب سپریم کورٹ کے احکامات پر الیکشن کمیشن نے آئندہ ماہ پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی الیکشن کروانے کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ حکومت میں دونوں اتحادی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ میں بلدیاتی نظام پر پونے پانچ سال تک مذاکرات جاری رہے تھے۔ اس دوران کئی بار اتفاق رائے بھی ہوا لیکن بعد میں ایم کیو ایم نے حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔







