’الیکشن کمیشن صوبوں کے ساتھ انتخابات کی تاریخیں طے کرے‘

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کے روز الیکشن کمیشن کی طرف سے لکھے جانے والے خط کو پٹیشن میں تبدیل کر کے اس کی سماعت کی
،تصویر کا کیپشنچیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کے روز الیکشن کمیشن کی طرف سے لکھے جانے والے خط کو پٹیشن میں تبدیل کر کے اس کی سماعت کی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی طرف سے نئی تاریخوں پر صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کروانے کی منظوری دے دی ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کروانے سے متعلق تاریخیں طے کرے۔ اس سے پہلے عدالت عظمیٰ نے بلدیاتی انتخابات کے نظام الوقت پر نظرِثانی سے متعلق الیکشن کمیشن کی درخواست اعتراض لگا کر مسترد کردی تھی۔

الیکشن کمیشن نے اس سے پہلے صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ میں انتخابات کروانے سے متعلق جاری کیا جانے والا شیڈیول منسوخ کردیا ہے اور اب سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں نیا انتخابی شیڈیول جاری کیا جائے گا۔

پرانے شیڈول میں صوبہ سندھ میں 27 نومبر جبکہ پنجاب میں سات دسمبر کو بلدیاتی انتخابات ہونا تھے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کے روز الیکشن کمیشن کی طرف سے لکھے جانے والے خط کو پٹیشن میں تبدیل کر کے اس کی سماعت کی۔

ڈی جی الیکشن کمیشن شیر افگن نے سپریم کورٹ کو ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن اس سال دسمبر میں صوبہ بلوچستان، 17 جنوری کو صوبہ سندھ، 30 جنوری کوصوبہ پنجاب جب کہ فروری میں صوبہ خیبر پختونخوا اور ملک کے تمام کنٹونمنٹ بورڈوں میں انتخابات کروا سکے گا۔

خط میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ نئی تاریخیں عدالت کے نوٹس میں بھی لائی جائیں۔ عدالت نے اس خط کو پٹیشن میں تبدیل کردیا اور عدالت نے اس ضمن میں اٹارنی جنرل کے علاوہ چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹس جنرل کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

اس سے پہلے الیکشن کمیشن کی طرف سے بلدیاتی انتخابات کو التوا کرنے سے متعلق رجسٹرار آفس نے یہ اعتراض لگا کر واپس کردیا تھا کہ چونکہ سپریم کورٹ اس سے پہلے پانچ نومبر کو فیصلہ دے چکی ہے، اس سے متفرق درخواست دائر نہیں کی جاسکتی۔

عدالت عظمیٰ نے جب الیکشن کمیشن کے خط کو پٹیشن میں تبدیل کیا تو پھر اس کے فریقین کو ٹیلی فون کے ذریعے اس کی سماعت سے متعلق مطلع کیا گیا۔