راولپنڈی میں چہلم کا جلوس پرامن طریقے سے اختتام پذیر

راولپنڈی میں چہلم کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے
،تصویر کا کیپشنراولپنڈی میں چہلم کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے

صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں جہاں گذشتہ ماہ یوم عاشور پر شیعہ اور سنی فسادات میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے تھے شہدائے کربلا کے چہلم کا مرکزی جلوس فوج، رینجرز اور پولیس کی نگرانی میں اپنے روائتی راستے سے ہوتے ہوئے قدیمی امام بارگاہ پر پرامن طریقے سے اختتام کے قریب پہنچ گیا ہے۔

راولپنڈی کے علاوہ پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پر کس ناخوشگوار واقع کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

راولپنڈی سے بی بی سی کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ چہلم کے جلوس کے موقع پر شہر میں معمولات زندگی متاثر نہیں ہوئے اور شہر میں دکانیں اور مارکٹیں کھلی رہیں۔ جلوس کے راستے میں دکانداروں نے جلوس گزرتے وقت دکانیں رضاکارانہ طور پر بند کر دیں۔

چہلم کے جلوس کے موقع پر راجہ بازار میں واقعہ مدرسہ تعلیم القران کے اردگرد سخت سیکیورٹی تھی اور پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔

یاد رہے کہ مدرسہ تعلیم القران کے سامنے ہی یوم عاشور پر شیعہ سنی جھگڑا شروع ہوا تھا۔ اسی جھگڑے میں مدرسہ تعلیم القران کی پہلی منزل پر واقعے درجنوں دکانوں کو نذر آتش کر دیا گیا تھا۔ اُس دن شہر میں امام بارگاہوں پر حملے بھی کیے گئے تھے اور تین امام بارگاہوں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ امام بارگاہ حفاظت علی شاہ کو نذر آتش کر دیا گیا تھا۔

چہلم کے دن تعلیم القران کی انتظامیہ نے سنی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا تھا جس کی راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے اجازت نہیں دی تھی۔

چہلم سے ایک دن قبل ہی ضلعی انتظامیہ نے ایک درجن سے زیادہ علماء کو احتیاطی حراست میں لے لیا تھا۔ جس کے بعد مدرسہ تعلیم القران کے طلبا نے احتجاجی جلوس بھی نکلا تھا۔

راولپنڈی شہر کے ایک علاقہ ڈھوک ہسو میں پولیس کو ایک گروپ کو منتشر کرنے کے لیے معمولی سے شیلنگ کرنا پڑی۔ اس کے علاوہ شہر کے کسی حصہ سے کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہیں آیا۔

چہلم کا مرکزی جلوس ٹرنک بازار، فوارہ چوک، راجہ بازار سے گزرتا ہوا شام سات بجے کے قریب امام بارگاہ قدیمی پر اختتام پذیر ہوا۔