بلوچستان:بلدیاتی انتخابات کی پولنگ مکمل، تشدد میں متعدد زخمی

بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالنے کا عمل مکمل ہو گیا ہے اور پولنگ کے دوران مختلف پرتشدد واقعات میں دو درجن کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں۔
صوبے کی علیحدگی پسند تنظیموں نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔
کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار کے مطابق بلوچستان میں 7190 نشستوں کے لیے 18 ہزار امیدوار میدان میں تھے اور صوبے میں 32 لاکھ ووٹرز ہیں جن کے لیے 4518 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے تھے۔
پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے شروع ہوئی اور شام پانچ بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہو گئی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے صوبے میں مجموعی طور پر پرامن بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پراطمینان کا اظہار کیاہے۔ انہوں نے صوبے کے بعض علاقوں میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو قانون کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔
انہوں نے کہا کہ ’بلوچستان میں جوصورتحال ہے اس میں یہ توقع رکھناغلط ہے کہ کچھ نہیں ہوگا۔‘
جب ان سے پوچھاگیا کہ سپریم کورٹ کے کہنے پر آپ کی حکومت نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کیاہے توڈاکٹرعبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ ’یہ بات درست ہے کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا لیکن ہمارا بھی یہ عزم تھا کہ اختیارات نچلی سطع تک منتقل ہو۔ تاکہ نہ صرف صوبےمیں جمہوری عمل مکمل ہو۔ بلکہ لوگوں کے بنیادی مسائل مقامی سطح پر حل کرنے کے لیے بھی اقدامات ہوسکے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولنگ کے موقع پر سکیورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے اور صوبے بھر میں 5400 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے جن میں پولیس، ایف سی، فوج اور لیویز کے اہلکار شامل تھے۔
4350 نشستوں میں سے 2332 نشستوں پر امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے جبکہ 508 نشستیں خالی ہیں۔
ایسی نشستیں جن پر امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے یا جو خالی رہ گئی ہیں وہ زیادہ تر بلوچ نمائندگی کے علاقوں میں ہیں جہاں بلوچ تنظیموں نے ان انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔
وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سال مئی میں عام انتخابات بھی اکثر بلوچ علاقوں میں ہڑتال کے دوران ہی ہوئے تھے۔‘

تین اضلاع میں پولنگ نہیں ہوئی جہاں زیادہ تر امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔ ان میں سے آواران، کیچ اور ہرنائی کے اضلاع شامل ہیں۔
آواران میں زلزلے اور شورش کی وجہ سے پولنگ نہیں ہوئی جبکہ ہرنائی میں حزبِ اختلاف نے حکومت پر دھاندلی کا الزام عائد کیا اور یہ بھی الزام عائد کیا کہ انتخابات سے متعلقہ سامان علاقے میں نہیں پہنچا۔
صوبے میں 2300 امیدوار بِلامقابلہ منتخب ہو چکے ہیں جبکہ 500 سے زائد حلقے ایسے ہیں جہاں کوئی امیدوار میدان میں نہیں ہے کیونکہ ان بلوچ اکثریتی علاقوں سے کوئی امیدوار انتخابی عمل میں شامل نہیں ہوا۔
کوئٹہ سے امیدوار صادق دین کہتے ہیں کہ انھیں یقین نہیں کہ لوگ بڑی تعداد میں ان انتخابات میں حصہ لیں گے:’لوگوں میں خاصا خوف پایا جاتا ہے۔ ہم بھی بہت محتاط ہو کر مہم چلا رہے ہیں۔ لوگ اتنے ڈرے ہوئے ہیں کہ جب ہم گروپ کی شکل میں ان سے ووٹ مانگنے جاتے ہیں تو وہ ڈر جاتے ہیں کہ خدا جانے کیا ہو گیا ہے۔‘
صوبے کے دور دراز علاقوں کو انتخابی ساز و سامان کی ترسیل کا سلسلہ آخری وقت تک جاری رہا۔
پولنگ کے دن سے پہلے کوئٹہ شہر میں الیکشن کی گہما گہمی انتخابی مہم کا وقت ختم ہونے تک نظر آئی۔کہیں انتخابی دفاتر کا افتتاح ہوا تو کہیں بلوچی روایات کے مطابق جرگوں کے ذریعے ووٹروں کو قائل کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں، اور انتخابی امیدوار ووٹروں کو نئی صبح کی امید دلاتے نظر آئے۔
میر حسن مینگل کوئٹہ کے ایک حلقے سے آزاد حیثیت میں حصہ لے رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا: ’یہ جو ارکان قومی و صوبائی اسمبلی ہیں، یہ تو منتخب ہونے کے بعد ووٹرز کو نظر ہی نہیں آتے۔ لوگوں کے مسائل تو مقامی سطح پر ہی حل ہوتے ہیں۔ لہٰذا عوام کو ان انتخابات میں ضرور ووٹ دینا چاہیے تاکہ ان کے مسائل حل ہوں۔‘
جماعتی بنیادوں پر ہونے والے ان انتخابات میں تقریباً تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود مبصرین سوال اٹھاتے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں حلقوں میں انتخابات نہ ہونا کہیں پورے انتخابی عمل پر سوالیہ نشان نہ لگا دے۔
رقبے کے لحاظ سے ملک کے اس سب سے بڑے صوبے میں علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ اور ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا۔







