لال مسجد مقدمہ: مشرف کا چودہ روزہ عدالتی ریمانڈ

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک عدالت نے غازی رشید قتل کیس میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف چودہ روزہ عدالتی ریمانڈ کا حکم جاری کر دیا ہے۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق مقامی عدالت نے مشرف کو عدالتی ریمانڈ پر دینے کا فیصلہ جمعے کو سنایا۔
اس سے پہلے عدالت نے پرویز مشرف کو پانچ روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مجسٹریٹ نے کہا تھا کہ ریمانڈ صرف ملزم کی موجودگی میں دیا جاتا ہے اور انھوں نے پولیس کو حکم جاری کیا کہ وہ پرویز مشرف کو عدالت میں پیش کریں۔
<link type="page"><caption> مشرف کی لال مسجد مقدمے میں باقاعدہ گرفتاری</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/10/131010_musharraf_red_mosque_case_arrest_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ نے لال مسجد کیس میں پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے سے متعلق دائر درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
یہ درخواست لال مسجد کے نائب مہتمم غازی عبدالرشید کے بیٹے نے دائر کی تھی جس کی سماعت جمعے کو ہوئی اور اس کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس ریاض احمد خان نے محفوظ کیا۔
یاد رہے کہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کے لیے دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ نے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم جاری کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ جمعرات کو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو لال مسجد کیس میں باقاعدہ طور پر گرفتار کیا گیا تھا۔
اسلام آباد کے چیف کمشنر جواد پال نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ اسلام آباد پولیس نے اس مقدمے میں سابق صدر سے تفتیش بھی کی ہے۔
یہ مقدمہ گذشتہ ماہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر درج کیا گیا اور اس میں قتلِ عمد کی دفعہ 302 کے علاوہ اعانتِ جرم کی دفعہ 109 بھی لگائی گئی ہے۔
اس مقدمے کی تفتیش کے لیے پولیس کی ایک ٹیم بھی تشکیل دی گئی تھی جس نے جمعرات کو پرویز مشرف کی رہائش گاہ پر ان سے ابتدائی تفتیش کی۔
جولائی 2007 میں لال مسجد کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے جنھیں اُس وقت کی حکومت نے ’شدت پسند‘ قرار دیا تھا۔
لال مسجد انتظامیہ کے مطابق اس آپریشن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو سو سے زائد ہے اور ہلاک ہونے والوں میں جامعہ حفصہ کی طالبات بھی شامل ہیں۔ اس آپریشن کے دوران گم ہونے والے متعدد افراد کا ابھی تک سراغ نہیں مل سکا۔
اُس وقت کی حکومت کا کہنا تھا کہ ان افراد نے حکومتی عمل داری کو چیلنج کیا ہے جس کی وجہ سے اُن کے خلاف فوجی کارروائی کی گئی۔
خیال رہے کہ پرویز مشرف کو جمعرات کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب اسی دن پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے اکبر بگٹی قتل کیس میں ضمانتی مچلکے جمع کروائے جانے کے بعد ان کی رہائی کے احکامات جاری کیے تھے۔
پرویز مشرف کو اُن کی عدم موجودگی میں درج ہونے والے تین مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے جس میں سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو اور نواب اکبر بُگٹی کے قتل کے مقدمات کے علاوہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو حبس بےجا میں رکھنے کا مقدمہ شامل ہے۔
جنرل مشرف ان دنوں چک شہزاد میں واقع اپنے فارم ہاؤس میں قید ہیں جنہیں اسلام آباد کی انتظامیہ نے سب جیل قرار دے رکھا ہے۔







