کراچی:سیاسی جماعت کے دفتر پر چھاپہ، اسلحہ برآمد

کراچی میں گزشتہ ماہ وفاقی کابینہ کے ایک خصوصی اجلاس میں ٹارگٹڈ آپریشن کا فیصلہ کیا گیا تھا
،تصویر کا کیپشنکراچی میں گزشتہ ماہ وفاقی کابینہ کے ایک خصوصی اجلاس میں ٹارگٹڈ آپریشن کا فیصلہ کیا گیا تھا

کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران رینجرز نے ایک سیاسی جماعت کے دفتر پر چھاپہ مارکر بھارتی ساخت کا اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

رینجرز کے ترجمان کے مطابق منگل کی صبح قائد آباد میں چھاپے مارے گئے اور سیاسی گروہ سے منسلک ایک ٹارگٹ کلر کو گرفتار کیا گیا، جس کی نشاندھی پر لانڈھی نمبر پانچ سے ایک دوسرے سیاسی گروہ کے 14 ملزمان کو حراست میں لیا گیا، جن میں دو مشہور ٹارگٹ کلر شمیم عرف گولی اور ساجد حسین شامل ہیں۔

رینجرز کا کہنا ہے کہ ملزمان سے بڑی تعداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے، جس میں بھارتی فوج کے زیراستعمال لائٹ مشین گنیں، سب مشین گنیں اور رائفلیں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ سی سی ٹی وی کیمرے بھی ملے ہیں جن کی مدد سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی تھی۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر صغیر احمد، واسع جلیل اور دیگر نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ لانڈھی میں ان کے دفتر پر رینجرز نے چھاپہ مار کر توڑ پھوڑ کی ہے اور کئی کارکنوں میں حراست میں لے لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ سیاسی جماعتوں کے دفاتر پر چھاپے نہیں مارے جائیں گے، لیکن اس کے باجود ایم کیو ایم کے دفاتر پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ڈاکٹر صغیر نے الزام عائد کیا کہ رینجرز نے الطاف حسین کی تصاویر پھاڑ دیں اور بہت سا سامان اپنے ساتھ لے گئے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق رینجرز کے ترجمان نے غیر روایتی طور پر سیاسی جماعت کے الزامات کا جواب دیا ہے۔

رینجرز کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کی جانب سے پریس کانفرنس میں کراچی کے شہریوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ترجمان کے مطابق بھارتی فوج کے زیرِ استعمال اسلحے کی نام نہاد سیاسی جماعت کے دفتر سے برآمدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی جماعتوں کی صفوں میں جرائم پیشہ اور ریاست دشمن عناصر موجود ہیں۔

رینجرز کا کہنا ہے کہ دفتری سامان کی لوٹ مار اور وال چاکنگ جرائم پیشہ افراد کا کام ہے جو سیاسی جماعتوں میں چھپے بیٹھے ہیں ۔

دوسری جانب کراچی پولیس کے سربراہ شاہد حیات نے ایک پریس کانفرنس میں مسلم لیگ لائرز فورم کے رہنما نعمت اللہ رندھاوا کے قاتل سمیت سات ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

شاہد حیات نے ایک پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ گرفتار ملزم کاظم عباس رضوی کا تعلق کراچی کی ایک سیاسی جماعت سے ہے اور وہ یونٹ 178 کا کارکن ہے ۔

انہوں نے نعمت اللہ رندھاوا کے قتل کو سیاسی مقصد کے لیے ہلاکت قرار دیا اور بتایا کہ نعمت اللہ رندھاوا صحافی ولی بابر کے قتل کی پیروی کر رہے تھے اس لیے انہیں نشانہ بنایا گیا۔

شاہد حیات کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے سامنے تمام سیاسی جماعتوں نے کہا تھا کہ ان کی صفوں میں اگرگند ہے تو اس کو صاف کیا جائے اور ہم تو اسی گند کے پیچھے جا رہے ہیں، پولیس کا مقصد کسی پارٹی کی دل آزاری کرنا نہیں ہے۔