صدر کے ملک چھوڑنے پر پابندی کی درخواست پر نوٹس جاری

پاکستان کی سپریم کورٹ نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے ملک چھوڑنے پر پابندی لگانے کے حوالے سے دائر درخواست پر وفاق اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیے ہیں۔
یہ درخواست صحافی شاہد اورکزئی نے سپریم کورٹ میں دائر کی ہوئی تھی۔
واضح رہے کہ صدر آصف علی زرداری کی آئینی مدت آٹھ ستمبر کو پوری ہو رہی ہے۔
<link type="page"><caption> اسامہ آپریش: ’صدر اور آرمی چیف کا رابطہ نہیں ہوا‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/03/120303_army_pres_denial_osama_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
اس درخواست میں درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے آپریشن کا علم صدر زرداری کو پہلے ہی سے تھا لیکن انہوں نے ملک کی مسلح افواج سے اس بارے میں معلومات کا تبادلہ نہیں کیا۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ایبٹ آباد کمیشن صدر زرداری سے بھی پوچھ گچھ کرے اور جب تک وہ یہ نہیں کر لیتے تب تک صدر آصف علی زرداری کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہ دی جائے۔
جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اس مقدمے کی سماعت کی۔
سماعت میں وفاق اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیے گئے کے وہ اپنے موقف سے آگاہ کریں۔ اس کیس کی سماعت تین ستمبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ پاکستان کی حکومت نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی اور بعد میں امریکی کارروائی کے دوران ان کی ہلاکت کے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمشین تشکیل دیا تھا جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جاوید اقبال کررہے تھے۔
واضح رہے کہ تین مارچ 2012 کو پاکستانی صدر کے ترجمان اور فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ یا آئی ایس پی آر نے ان اطلاعات کی تردید کی تھی کہ اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کارروائی کے دوران صدر آصف علی زرداری اور فوج کے سربراہ کے درمیان ٹیلیفون پر کوئی بات چیت ہوئی تھی۔
پاکستان کے صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ دو مئی کو اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کارروائی کے روز پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کی فوج کے سربراہ کو ٹیلیفون کال کے بارے میں بعض میڈیا رپوٹس غلط اور بے بنیاد ہیں۔
بیان کے مطابق ذرائع ابلاغ میں یہ رپورٹس شائع ہوئی ہیں کہ دو مئی کی رات کو اسامہ کے خلاف امریکی کارروائی کے موقع پر صدر زرداری نے فوج کے سربراہ کو ٹیلیفون کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ یہ کارروائی ان کی منظوری سے ہو رہی تھی۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں میمو سکینڈل کے مرکزی کردار منصور اعجاز کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے مبینہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یکم اور دو مئی 2011 کی رات کو پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے درمیان ٹیلیفون پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی‘۔







