ایل او سی فائرنگ، بھارتی سفارتکار کی طلبی

پاکستان کے عسکری ذرائع کے مطابق لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے پاکستانی فوج کے ایک کپتان ہلاک ہو گئے ہیں۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اس واقعے کے بعد پاکستان کے دفترِِخارجہ نے اسلام آباد میں بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کیا ہے اور واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
واقعے کی تفصیلات کے مطابق بھارتی فوج کی فائرنگ سے کیپٹن سرفراز ہلاک جبکہ ایک سپاہی یاسین شدید زخمی ہو گئے۔
<link type="page"><caption> لائن آف کنٹرول: ’بارہ روز میں 34 خلاف ورزیاں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/08/130816_loc_firing_india_pak_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ایل او سی فائرنگ، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی طلبی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/08/130812_pak_india_loc_firing_rk.shtml" platform="highweb"/></link>
دوسری جانب بھارتی فوجی ذرائع نے ہمارے نامہ نگار ریاض مسرور کو بتایا کہ ’پاکستانی فوج نے ککسر سیکٹر میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جس پر بھارتی فوج نے جوابی کارروائی کی‘۔
پاکستانی عسکری ذرائع کے مطابق یہ واقع لائن آف کنٹرول کے شکما سیکٹر میں پیش آیا جو پاکستان کے شمالی علاقے سکردو کے قریب واقع ہے۔
ذرائع کے مطابق فائرنگ کا سلسلہ منگل کی رات گیارہ بجے کے بعد شروع ہوئی اور بدھ کی صبح سوا دو بجے تک جاری رہی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حالیہ دنوں میں پاکستان اور بھارت دونوں کے درمیان سرحد پر اور خصوصاً لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
اس سے قبل اسی مہینے میں بھارت نے تیرہ اگست کو پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر پاکستان کی جانب سے بھارت کی دس چوکیوں پرگولہ باری کی گئی۔
سری نگر میں ہمارے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق بھارتی فوج کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے شرط پر بتایا کہ کارگل کے کاکسر سیکٹر میں بھارتی وقت کے مطابق پیر کی شب سوا گیارہ بچے پاکستانی افواج نے بھارتی اہداف پر فائرنگ کی جس کا جواب دیا گیا۔
کارگل سیکٹر میں چودہ سال قبل ہوئی کارگل جنگ کے بعد پہلی بار دونوں ملکوں کی افواج ایک دوسرے پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کررہی ہیں۔
واضح رہے کہ اگست ہی کے مہینے میں آٹھ اگست کو بھارت نے پاکستانی فوج پر الزام عائد کیا تھا کہ جموں میں لائن آف کنٹرول کے قریب پانچ بھارتی فوجیوں کو ہلاک کرنے والے حملے میں پاکستانی فوجی ملوث تھے اور یہ کہ ’اس واقعے کے مضمرات پاکستان کے ساتھ رشتے پر نظر آئیں گے‘۔
لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر پیش آنے والے واقعات پر پاکستانی وزارتِ خارجہ نے اسلام آباد میں بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو بھی طلب کر کے احتجاج کیا۔
اسی طرح پاکستانی وزیر اعظم میاں نواز شریف نے بھی بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد کی صورتحال پر مشاورت کے لیے کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کے روز طلب کیا ہوا ہے۔
اس سے قبل میاں نواز شریف نے وزیر اعظم بننے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے عوام کو غربت جہالت اور پسماندگی سے نجات دلانے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔
میاں نواز شریف نے کہا تھا کہ ’دونوں ملکوں کی قیادت کی یہ ذمہ داری ہے اور دونوں کی قیادت کو بخوبی علم ہونا چاہیے کہ ماضی کی جنگوں نے ہمیں برسوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ دنیا بھر کی تاریخ نے اس حقیقت کو ثابت کر دیا ہے کہ قوموں کی ترقی اور خوشحالی ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات میں مضمر ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہم بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کے خواہشمند ہیں۔‘







