ضمنی انتخابات: ووٹنگ ختم، گنتی شروع

حساس پولنگ سٹیشنوں پر فوجی تعینات کیے گئے ہیں
،تصویر کا کیپشنحساس پولنگ سٹیشنوں پر فوجی تعینات کیے گئے ہیں

پاکستان میں عام انتخابات کے چودہ ہفتے بعد جمعرات کو ملک میں قومی و صوبائی اسمبلی کے اکتالیس حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن نے اعلان کیا تھا کہ ووٹنگ کے وقت میں توسیع نہیں کی جائے گی اور پاکستانی معیاری وقت کے مطابق پانچ بجے پولنگ کا وقت ختم ہو جائے گا۔

جن 41 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہوئی ہے ان میں سے 15 حلقے قومی اسمبلی جبکہ 26 مختلف صوبائی اسمبلیوں کے ہیں۔ ان میں سے کچھ نشستوں پر امیدواروں کے انتقال کی وجہ سے الیکشن نہیں ہو سکا تھا جبکہ کچھ ایک سے زیادہ حلقوں سے الیکشن جیتنے والے امیدواروں نے خالی کی تھیں۔

<link type="page"><caption> آپ کی رائے: کیا حکومتیں اپنے وعدے وقت پر پورے کر پائیں گی؟</caption><url href="http://newsforums.bbc.co.uk/ws/ur/thread.jspa?forumID=17380" platform="highweb"/></link>

قومی اسمبلی کے حلقے این اے 25 ڈیرہ اسماعیل خان کم ٹانک میں امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے الیکشن ملتوی کر دیے گئے۔

یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ایک ہی دن اتنے بڑے پیمانے پر ضمنی انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ضمنی انتخابات کے لیے کُل 7606 پولنگ سٹیشنوں میں سے 1840 انتہائی حساس اور 2686 حساس قرار دیے گئے اور وہاں فوج تعینات کر دی گئی تھی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 8 سے 10 ہزار فوجی ان انتخابات میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن نے پہلی بار پولنگ مراکز پر تعینات فوج کے متعلقہ افسران کو مجسٹریٹ کے اختیارات دیے۔

گیارہ مئی کے عام انتخابات میں مسلم لیگ نواز کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تھی
،تصویر کا کیپشنگیارہ مئی کے عام انتخابات میں مسلم لیگ نواز کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تھی

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پولنگ صبح آٹھ بجے شروع ہوئی اور یہ بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہی۔

اسلام آباد

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ضمنی الیکشن ہو رہا ہے اور قومی اسمبلی کے حلقے این اے 48 میں تحریکِ انصاف کے امیدوار اسد عمر اور مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری اشرف گجر کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ یہ نشست تحریکِ انصاف کے رہنما جاوید ہاشمی نے خالی کی تھی۔

خیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کی پانچ نشستوں پر ضمنی انتخاب ہونا تھا لیکن ٹانک میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 25 میں امن و امان کی خراب صورت حال کے باعث انتخاب ملتوی کر دیا گیا ہے اور یوں اب صوبے میں اب قومی اور صوبائی اسمبلی کے چار چار حلقوں میں انتخاب ہو رہا ہے۔

پشاور میں قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سے عوامی نیشنل پارٹی کے غلام احمد بلور ایک مرتبہ پھر امیدوار ہیں۔ 11 مئی کے عام انتخابات میں انہیں اسی نشست پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے شکست دی تھی۔

صوابی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 13 میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کے بھائی عاقب اللہ تحریکِ انصاف کے امیدوار ہیں جبکہ نوشہرہ میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے پانچ سے تحریکِ انصاف نے اپنے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے داماد عمران خٹک کو ٹکٹ دیا ہے۔

پنجاب

صوبہ پنجاب میں قومی اسمبلی کے چھ اور صوبائی اسمبلی کے 14 حلقوں میں انتخاب ہو رہا ہے۔

یہاں قومی اسمبلی کی جن نشستوں پر الیکشن ہو رہا ہے ان میں سے ایک این اے 68 سرگودھا ملک کے موجودہ وزیراعظم نواز شریف، این اے 129 پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف، این اے 71 میانوالی تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان اور این اے 177 مظفر گڑھ آزاد امیدوار جمشید دستی نے خالی کی تھی جبکہ فیصل آباد کی نشست این اے 83 پر امیدوار کے انتقال کی وجہ سے پولنگ نہیں ہوئی تھی۔

خیبر پختونخوا میں ضمنی الیکشن تحریکِ انصاف کی حکومت کی مقبولیت جانچنے کا پیمانہ سمجھے جا رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنخیبر پختونخوا میں ضمنی الیکشن تحریکِ انصاف کی حکومت کی مقبولیت جانچنے کا پیمانہ سمجھے جا رہے ہیں

اس کے علاوہ حافظ آباد سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 103 میں دھاندلی کی شکایات کے باعث الیکشن کمیشن نے یہاں انتخاب کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

سندھ /بلوچستان

سندھ میں قومی اسمبلی کے تین اور صوبائی اسمبلی کے چار حلقوں میں رائے شماری ہو رہی ہے۔

یہاں کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 254 میں متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار محمد علی راشد انتخاب لڑ رہے ہیں۔ حلقہ این اے 235 سانگھڑ میں پپپلز پارٹی کی شازیہ مری اور مسلم لیگ فنکشنل کے خدا بخش راجڑ کے درمیان مقابلہ ہے جبکہ این اے 237 ٹھٹہ میں مسلم لیگ ن کے امیدوار ریاض حسین شاہ شیرازی کا سامنا پیپلز پارٹی کی شمس النساء کر رہی ہیں۔

ادھر بلوچستان میں قومی اسمبلی کے حلقہ 262 قلعہ عبداللہ میں الیکشن ہو رہا ہے اور یہاں کے تمام پولنگ سٹیشنوں کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان اسمبلی کے تین حلقوں میں بھی ضمنی انتخاب ہو رہا ہے۔

ملک میں ہونے والے ان ضمنی انتخابات کے نتائج سے حکمران جماعت سمیت دیگر پارٹیوں کی مجموعی سیاسی پوزیشن پر تو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا تاہم انہیں تین ماہ قبل منتخب ہونے والی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی عوامی مقبولیت کا امتحان کہا جا سکتا ہے۔