سندھ:پی پی پی اور ایم کیو ایم زیادہ سرگرم

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ سندھ میں سات نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں صوبے میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور حزب اختلاف کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ دیگر جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ سرگرم نظر آتی ہیں۔
یہ ضمنی انتخابات قومی اسمبلی کی تین اور صوبائی اسمبلی کی چار نشستوں پر ہوں گے جن میں سے ایک قومی اور دو صوبائی نشستیں کراچی کی ہیں۔
<link type="page"><caption> پاکستان کے انتخابات پر خصوصی ضمیمہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/indepth/pak_election_2013.shtml" platform="highweb"/></link>
جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی نے ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے، جس کا فائدہ تحریک انصاف کو پہنچنے کا امکان ہے۔
عام انتخابات میں تحریک انصاف دوسری بڑی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی تھی اور اس نے کراچی سے ایک قومی اور دو صوبائی نشستوں پر کامیابی حاصل کی، ضمنی انتخابات کے نتائج یہ بھی بتائیں گے تحریک انصاف اپنی مقبولیت برقرار رکھ سکی یا نہیں۔
الیکشن کمیشن نے کراچی کے تینوں حلقوں کے تمام ہی پولنگ سٹیشنوں کو حساس قرار دیا ہے اور پولنگ سٹیشن کے اندر اندر اور باہر فوج کی تعیناتی کی سفارش کی ہے۔
کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 254 پر متحدہ قومی موومنٹ کے محمد علی راشد اور تحریک انصاف کے نعیم شیخ میں مقابلہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عام انتخابات سے قبل عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار صادق زماں خٹک کے قتل کے بعد اس نشست پر انتخابات ملتوی کیے گئے تھے۔
متحدہ قومی موومنٹ اس نشست پر 1988 سے کامیابی حاصل کرتی رہی ہے۔
صوبائی حلقے پی ایس 95 پر متحدہ قومی موومنٹ کے محمد حسین کا مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد جمیل ضیا اور مسلم لیگ ن کے محمد جاوید خان سے ہے۔

محمد حسین گزشتہ پانچ انتخابات سے کامیابی حاصل کرتے رہے ہیں، عام انتخابات سے پہلے آزاد امیدوار شکیل احمد کی ہلاکت کے بعد اس نشست پر انتخابات ملتوی کیے گئے تھے، شکیل احمد کو ایم کیو ایم حقیقی کی بھی حمایت حاصل تھی۔
پی ایس 103 پر متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار عبدالرؤف صدیقی، تحریک انصاف کے سلطان احمد اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شیخ فیصل اعجاز سے مقابلہ کریں گے۔
صوبائی اسمبلی کی یہ نشست ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی <link type="page"><caption> ساجد قریشی کے قتل کے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/06/130621_mqm_mpa_khi_killed_zz.shtml" platform="highweb"/></link> بعد خالی قرار دی گئی تھی۔
سابق صوبائی وزیر رؤف صدیقی کو عام انتخابات میں پی ایس 114 پر مسلم لیگ ن کے امیدوار عرفان اللہ مروت نے شکست دی تھی۔
سانگھڑ کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 235 پر پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار شازیہ مری کا مقابلہ مسلم لیگ فنکنشل کے خدا بخش درس سے ہے، گیارہ مئی کے انتخابات میں اس نشست پر مسلم لیگ فنکنشل کے صدرالدین شاہ راشدی نے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ ساٹھ ہزار سے زائد ووٹ لیکر شازیہ مری دوسرے نمبر پر رہیں۔
صدرالدین شاہ راشدی نے خیرپور میں قومی اسمبلی کی نشست پر کامیابی کے بعد سانگھڑ کی سیٹ خالی کر دی تھی۔
روایتی طور پر یہ نشست مسلم لیگ فنکنشل کے پاس رہی لیکن ماضی کے مقابلے میں گزشتہ عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کو توقع سے زیادہ ووٹ ملے جس کے باعث پیپلز پارٹی نے دوبارہ شازیہ مری کو امیدوار نامزد کیا ہے، جو اس وقت خواتین کی مخصوص نشست پر رکن قومی اسمبلی بھی ہیں۔

ٹھٹہ میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 237 پر پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار شمس النسا میمن مسلم لیگ ن کے نوجوان ریاض شاہ شیرازی کا مقابلہ کر رہی ہیں، اس نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار صادق میمن نے کامیابی حاصل کی تھی لیکن عدالت نے دوہری شہریت پر انہیں نا اہل قرار دے دیا اور دوبارہ انتخابات کا حکم جاری کیا۔
شمس النسا صادق میمن کی والدہ ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور ووٹروں کے لیے اجنبی ہیں۔ ان کے مقابلے میں ریاض شیرازی کا پس منظر خاصا عوامی ہے ان کا خاندان گزشتہ تین دہائیوں سے ٹھٹہ کی سیاست پر حاوی ہے پچھلے دنوں انہوں نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی تھی۔
شکار پور کے صوبائی حلقے پی ایس 12 پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار عابد حسین بھیو کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے عامر حسین جتوئی کے ساتھ ہے، اس نشست پر عابد حسین کے بھائی بابر بھیو نے کامیابی حاصل کی تھی جنہیں ڈگری جعلی ہونے کی وجہ سے ناہل قرارد دے دیا گیا۔ جتوئی خاندان نے بھی عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی ہے۔
میرپور خاص کے صوبائی حلقے پی ایس 64 پر متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار ظفر احمد کمالی کا مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سعید قریشی سے ہے۔ 1988 سے متحدہ قومی موومنٹ اس نشست پر کامیابی حاصل کرتی رہی ہے۔ اس حلقے میں ایک آزاد امیدوار کی موت کے بعد انتخابات منعقد نہیں ہویے تھے۔







