ضمنی انتخابات سے عوامی رحجانات کا اندازہ

پنجاب میں سیلاب کےباعث بھی الیکشن مہم پرجوش نہیں رہی
،تصویر کا کیپشنپنجاب میں سیلاب کےباعث بھی الیکشن مہم پرجوش نہیں رہی
    • مصنف, شمائلہ جعفری
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قومی اسمبلی کے سات جبکہ صوبائی اسمبلی کے پندرہ نشستوں پر ضمنی انتخابات ہورہے ہیں۔

مبصرین کا ماننا ہے کہ ان انتخابات سے پارٹیوں کی مجموعی سیاسی پوزیشن پر تو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ تاہم عام اتنخابات کے بعد عوام کے سیاسی رجحانات اور وفاداریوں کا اندازہ ضرور لگایا جاسکے گا۔

پنجاب میں سیلاب کےباعث بھی الیکشن مہم پرجوش نہیں رہی پھر بھی کئی حلقوں میں زوردار مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔

صوبہ پنجاب میں میانوالی سے قومی اسمبلی کی نشست پر تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ نواز کے درمیان ایک سخت میچ پڑنے جارہا ہے۔ اس حلقے سے ن لیگ کے امیدوار عبیداللہ شادی خیل ہیں۔ یہ حلقہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا آبائی علاقہ ہے اور گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں یہاں عمران خان نے عبیداللہ شادی خیل کو شکست دی تھی۔

تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ صوبے میں مجموعی طور پر نواز لیگ کے کلین سویپ تحریک انصاف کے مقامی دھڑوں میں پائے جانے والے اختلافات اور عائلہ ملک کی جعلی ڈگری کیس میں نااہلی سے اس حلقے میں تحریک انصاف کے مقبولیت کو دھچکا لگ سکتا ہے۔

عائلہ ملک کی نااہلی کے بعد یہاں تحریک انصاف نے پارٹی ٹکٹ ملک وحید خان کو دیا گیا ہے جن کےبارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ عائلہ ملک کی نسبت ایک کمزور امیدوار ثابت ہوسکتے ہیں۔

پنجاب میں ایک اور دلچسپ مقابلہ مظفر گڑھ کی نشست این اے ایک سو ستتر پر ہورہا ہے۔ یہ نشست روایتی طور پر سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے خاندان کی نشست رہی ہے۔ لیکن عام انتخابات میں یہاں آزاد حثیت سے انتخاب لڑنے والے جمشید دستی نے حنا ربانی کھر کے والد غلام ربانی کھر کوشکست دی تھی۔

تاہم دو نشستوں پر کامیاب ہونے کے بعد جمشید دستی نے اس نشست سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔اب یہاں سے جمشید دستی کے بھائی جاوید خان دستی آزاد حثیت میں امیدوار ہیں۔

جمشید دستی علاقے میں اپنے عوامی طرزعمل کے باعث کافی مقبول سمجھے جاتے ہیں اور عام انتخابات میں انھیں مقامی سطح پر کئی مضبوط دھڑوں کی حمایت بھی حاصل رہی۔ لیکن سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ اب یہاں صورتحال تبدیل ہوچکی ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ اس مرتبہ پیپلزپارٹی یہ نشست لینے میں کامیاب ہوجائے۔

سرگودھا سے این اے چونسٹھ کی نشست میاں نوازشریف کے استعفے کے بعد خالی ہوئی۔ یہاں ن لیگ کے امیدوار شفقت حیات خان کو مضبوط امیدوار تصور کیا جارہا ہے۔ تاہم یہاں شفقت حیات خان کو تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کی نسبت اپنی ہی پارٹی کے سابقہ لیڈر جاوید حسنین شاہ سے زیادہ سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔

جاوید حسنین شاہ نے دوہزار آٹھ میں ہونے والے انتخابات میں سرگودھا سے این اے چونسٹھ سے ن لیگ کی ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن بعد میں انھیں جعلی ڈگری کے باعث اس نشست سے ہاتھ دھونا پڑے ۔ اس حلقے میں ن لیگ کے دو دھڑے ایک دوسرے کے مدِمقابل دکھائی دے رہے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اس حلقے سے تحریک انصاف کے نذیر احمد صوبھی بھی خاطر خواہ ووٹ حاصل کرسکتے ہیں۔

حافظ آباد سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے ایک سو تین میں دھاندلی کی شکایات کے باعث الیکشن کمیشن نے یہاں انتخابات کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ اس نشست پر بھی ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں۔

مئی میں ہونے والے عام انتخابات میں یہاں مسلم لیگ ق کے سابقہ ایم این اے مہدی بھٹی کے بھائی لیاقت بھٹی نے ق لیگ کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم نتائج منسوخ ہونے کے بعد مہدی حسن بھٹی نے اپنے خاندان سمیت تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اب یہاں اس حلقے سے ان کے بیٹے شوکت علی بھٹی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پرضمنی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں جہاں ان کے سب سے طاقتور حریف ن لیگ کے شاہد حسین خان بھٹی ہیں۔

لاہور میں شہباز شریف کی جانب سے چھوڑی جانے والی نشست این اے ایک سو انتیس پر مسلم لیگ ن کی شازیہ مبشر کو مضبوط امیدوار قرار دیا جارہا ہے۔ یہاں شازیہ مبشر کے مدِمقابل سب سے بہتر پوزیشن تحریک انصاف کے امیدوار محمد منشا کی ہے۔

یہ ضمنی انتخاب لاہور میں مقبولیت اور انتخابی دھاندلی کا شور مچانے والی پاکستان تحریک انصاف کے لیے بھی اپنی مقبولیت منوانے کا ایک نادر موقع ہے۔

صوبائی اسمبلی کی پندرہ نشتوں میں اوکاڑہ سے پی پی ایک سو ترانوے پر کل گیارہ امیدوار آمنے سامنے ہیں جن میں سے آٹھ کا تعلق وٹو برادری سے ہے۔ یہ نشست میاں معین وٹو کی دستبرداری کے بعد خالی ہوئی۔ یہاں سے پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو کے صاحبزادے خرم جہانگیر وٹو پی پی پی پی کے امیدوار ہیں۔

میاں منظور وٹو عام انتخابات میں اوکاڑہ سے قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر ناکامی کا سامنا کرچکے ہیں۔ تاہم اب پیپلزپارٹی صوبائی اسمبلی کی یہ نشست حاصل کرنے کے لیے کافی پرامید دکھائی دے رہی ہے۔

صوبائی اسبملی کی ایک نشست پر ایک اور دلچسپ مقابلہ ڈیرہ غاری خان میں پی پی دو سو تینتالیس پر ہونے جارہا ہے۔یہ نشست مسلم لیگ ن کے ذوالفقار علی کھوسہ نے خالی کی تھی اور اب اس نشست پر ان کے دو صاحبزادے دو مختلف پارٹیوں کے ٹکٹوں پر مدمقابل ہیں۔

سیف الدین کھوسہ پیپلزپارٹی میں شمیولیت اختیار کرچکے ہیں اور انھیں کے ٹکٹ پر اپنے بھائی حسام الدین کھوسہ کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ حسام الدین کھوسہ ن لیگ کے امیدوار ہیں اور انھیں اپنے والد ذوالفقار کھوسہ کی سیاسی حمایت بھی حاصل ہے