’برقع ایونجر‘: پاکستان کی پہلی سپر ہیرو

- مصنف, صبا اعتزاز
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی پہلی سُپر ہیرو ایک برقع پوش خاتون ہیں جو رات میں تعلیم کے دشمن سے جنگ کرتی ہیں اور دن میں ایک مشفق استانی کا روپ دھار کر اپنے گاؤں کے بچوں کو پڑھاتی ہیں۔
یہ سب کچھ پاکستان کی پہلی اینیمیٹیڈ سیریز ’برقع ایونجر‘ میں ہونے جا رہا ہے جو اگلے ماہ سے نجی ٹی وی جیو پر نشر ہوگی۔
’برقع ایونجر‘ نامی یہ سیریز ابھی ٹی وی پر لانچ نہیں ہوئی لیکن اس نے ابھی سے ہلچل مچا دی ہے۔ پاکستان جہاں حقیقی زندگی میں لڑکیوں کی تعلیم کی شرح بارہ فیصد سے بھی کم بتائی جاتی ہے اور تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے لڑکیوں کے سکول تباہ کرنے کاسلسلہ جاری ہے۔
13 اقساط پر مشتمل سیریز برقع ایونجر کی کہانی سر سبز و شاداب پہاڑوں میں گھرے فرضی شہر ’حلوہ پور‘ کے گرد گھومتی ہےـ اس کے دیگر کرداروں میں تین طالب علم شامل ہیں جو قلم اور کتاب کی مدد سے شر پسند ولن بابا بندوق اور اس کے ساتھیوں کے خلاف لڑائی لڑتے ہیں۔
کہانی کے ایک اور مرکزی ولن وڈیرہ پجیرو ہیں جو ایک بد عنوان سیاستدان ہیں۔
برقع پوش ہیروئن کا اصل نام جیا ہے اور انہوں نے کراٹے کے داؤ پیچ اپنے والد کبڈی جان سے سیکھے ہیں۔
پروگرام کے خالق پاکستانی پاپ گلوکار ہارون رشید ہیں جنہوں نے گزشتہ سال برقع ایونجر پر مبنی ایک آئی فون کی گیم بھی لانچ کی تھی۔ لیکن جیا اور برقعہ ایونجر کا کردار اتنا مضبوط ہو گیا کے ایک پوری سیریز کا مواد بن گیا۔
ہارون رشید نے بی بی سی کو بتایا ’یہ بچوں تک ایک طاقتور سماجی پیغام پہنچانے کا نہایت ہی دلچسپ طریقہ ہے۔ برقع ایونجر ایک ایسی رول ماڈل ہیں جن کی پاکستان میں کمی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن حقیقی زندگی میں حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی چند خواتین اس بات سے بلکل متفق نہیں۔ اسلام آباد کی خاتون صحافی ماروی سرمد کا کہنا ہے کے ایک خاتون کو ایسے لباس میں مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے جسے خواتین پر جبر کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ماروی سرمد کا کہنا تھا ’یہ بات تباہ کن ہے کہ آپ یہ کہیں کے طاقت تب ہی ملتی ہے جب جبر کی کسی علامت کا سہارا لیا جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اس کا مطلب یہ ہو گا کہ آپ پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں ان خواتین کی کوششوں کو بے مقصد قرار دیں جو خواتین کے لیے لڑ رہی ہیں اور جو جبر کی ان علامات کو رد کرتی ہیں۔‘
تاہم برقع ایونجر کے اینیمیشن انچارج طٰہ اقبال سمجھتے ہیں کے سب لوگوں کو ٹی وی سیریز کے نشر ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی دوسرے سپر ہیرو کی طر ح برقعہ ایونجر کا بھی ایک پس منظر ہے اور اس کردار کا برقع پہننے کی بھی ایک وجہ ہے۔
اس سیریز کی باضابطہ تشہیر سے پہلے ہی اس کے ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن چکے ہیں۔
اس سیریز کو ایک سال کے اندر 22 رکنی پروڈکشن ٹیم نے مکمل کیا ہے۔ اس کی موسیقی کے لیے نامور گلوکاروں علی عظمت، جوش اور علی ظفر کا بھی تعاون حاصل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ برقع ایونجر کو پاکستان کے سپر ہیرو کے طور پر متعارف کرانے کے لیے ٹی شرٹس اور دیگر سامان کا بھی سہارا لیا جا رہا ہے۔







