راجن پور: آپریشن کے بعد 8 پولیس اہلکار بازیاب

دس روز کے آپریشن کے بعد پنجاب پولیس نے راجن پور میں کچے کے علاقے سے اغوا کیےگئے اپنے آٹھ ساتھیوں کو بازیاب کروا لیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران دو ڈاکو زخمی ہوئے تاہم چھوٹو مزاری گینگ سے تعلق رکھنے والے تمام اغواکار فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
آر پی او ڈی جی خان اختر عمر حیات لالیکا کے مطابق ’بازیاب ہونے والے آٹھوں اہلکار خیریت سے ہیں تاہم چھوٹوگینگ کو محفوظ راستہ نہیں دیا گیا۔ علاقہ میں سرچ آپریشن جاری ہے اور اب اغواکاروں کے اس گروہ کو منطقی انجام تک پہنچاکر ہی دم لیا جائےگا۔‘
پولیس اہلکاروں کو سات جولائی کو غلام رسول عرف چھوٹو مزاری گینگ نے راجن پور کے کچے کے علاقے سے اغوا کیا تھا۔ پولیس آپریشن کے دوران ڈاکووں نے ایک پولیس اہلکار کو ہلاک بھی کیا۔
آر پی او کے مطابق پولیس اہلکاروں کی رہائی مذاکرات کے نتیجے میں نہیں ہوئی۔ مقامی سیاستدانوں کے ذریعے پہلے چھوٹو گینگ سے بات چیت کی گئی لیکن ان کے مطالبے ایسے نہیں تھے جنہیں تسلیم نہیں کیا جاسکتا تھا۔
ضلع راجن پور کے اس علاقے میں امن و امان کی صورتحال مخدوش ہے۔ دریائے سندھ یہاں بہت چوڑائی میں ہے اور اس میں کئی چھوٹے چھوٹے جزیرے ہیں جہاں جرائم پیشہ افراد اکثر اپنا ٹھکانہ بنائے رکھتے ہیں۔ تین صوبوں پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے سنگم پرموجود اس علاقے میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بھی عام ہیں۔
دو برس پہلے اس علاقے میں پولیس کی بائیس چوکیاں قائم کی گئی تھیں۔ جن دو چوکیوں پر حملہ کر کے چند روز پہلے پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا گیا وہ اس علاقے میں دریائے سندھ کے ایک چھوٹے جزیرے پر قائم تھیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق نگران حکومت کے دور میں ہونے والے تبادلوں اور تقرریوں کے باعث یہاں پولیس کی گرفت نسبتاً کمزور ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکوں کے گروہ کے سرغنہ غلام رسول عرف چھوٹو مزاری کا تعلق اسی علاقے سے ہے اور یہ کئی برس سے اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ حکام کی جانب سے چھوٹو مزاری کے سر کی قیمت بیس لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔ آر پی او ڈی جی خان عمر حیات لالیکا کے مطابق یہ خالصتاً ایک جرائم پیشہ افراد کا گروہ ہے اور کالعدم تنظیموں سے ان کے رابطوں کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔







