پولیس اہلکاروں کی بازیابی کے لیے آپریشن

ضلع راجن پور کے اس علاقے میں امن و امان کی صورت حال مخدوش ہے
،تصویر کا کیپشنضلع راجن پور کے اس علاقے میں امن و امان کی صورت حال مخدوش ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع راجن پور میں کچے کے علاقے میں آٹھ مغوی پولیس اہلکاروں کی بازیابی کے لیےگذشتہ نو روز سے غلام رسول عرف چھوٹو مزاری گینگ کے خلاف پولیس آپریشن جاری ہے ۔

پولیس کی کارروائی میں مغویوں کو ابھی تک بازیاب نہیں کروایا جا سکا۔

پولیس کے مطابق اس کارروائی میں اب تک چھوٹو مزاری گینگ کے قبضے سے ملتان کے تین ڈاکٹروں کو رہا کرایا جا چکا ہے۔

خیال رہے کہ غلام رسول عرف چھوٹو مزاری گینگ نے ان پولیس اہلکاروں کو سات جولائی کو راجن پور کے کچے کے علاقے سے اغوا کیا تھا اور تب سے پولیس اپنے ساتھیوں کو بازیاب کروانے کے لیے کوشیشں جاری رکھے ہوئے ہے۔

پولیس کی جانب سے اپنے ساتھیوں کو بازیاب کروانے کی کارروائی کے دوران ڈاکو ایک پولیس اہلکار کو ہلاک بھی کر چکے ہیں۔

نامہ نگار شمائلہ جعفری کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) اختر عمر حیات لالیکا کا کہنا ہے کہ پولیس کامیابی کے بہت قریب ہے اور انھیں توقع ہے کہ اگلے چند گھنٹوں میں پولیس اہلکاروں کو رہا کروا لیا جائے گا۔

’ڈاکو ابھی تک فرار ہیں اور ہم ان کا پیچھا کر رہے ہیں۔ہم چند گھنٹوں میں یہ علاقہ کلئیر کر دیں گے اور جب یہ علاقہ کلئیر ہو جائے گا تو انھیں پولیس اہلکاروں کو چھوڑنا پڑے گا‘۔

آر پی او کے مطابق اس وقت پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ مقامی سیاستدانوں کے ذریعے پہلے چھوٹو گینگ سے بات چیت کی گئی لیکن ان کے مطالبے ایسے نہیں تھے جنہیں تسلیم کیا جا سکتا۔

’ ڈاکوؤں کا مطالبہ تھا کہ کچے کے علاقے میں دریائے سندھ کے پاس پولیس چوکیاں ختم کی جائیں جو ہم نے یکسر مسترد کر دیا۔اس وقت ان کا کوئی خاص مطالبہ نہیں ہے اور نہ ہی ہم ان کی کوئی بات مانیں گے۔ اگر ہم نے ان کے مطالبے ماننے ہوتے تو پہلے دن ہی مان لیے جاتے۔ یہ مارے جائیں گے یا گرفتار ہوں گے یا پھر یہاں سے بھاگ جائیں گے۔ ہم اپنے بندے بھی واپس لیں گے اور ان کو ہم اس علاقے سے نکلنے بھی نہیں دیں گے‘۔

ضلع راجن پور کے اس علاقے میں امن و امان کی صورت حال مخدوش ہے۔ دریائے سندھ یہاں بہت چوڑائی میں ہے اور اس میں کئی چھوٹے چھوٹے جزیرے ہیں جہاں جرائم پیشہ افراد اکثر اپنا ٹھکانہ بنا لیتے ہیں۔ پنجاب سندھ اور بلوچستان کے سنگم پر واقع اس علاقے میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بھی عام ہیں۔

اس وقت تین اضلاع راجن پور رحیم یار خان اور ڈیرہ غاریخان کی پولیس کے دو ہزار اہلکاروں نے کچے کے پچاس سے ساٹھ کلومیٹر رقبے پر گھیرا ڈال رکھا ہے۔

اس علاقے میں دو برس پہلے پولیس کی بائیس چوکیاں قائم کی گئی تھیں جہاں چند روز پہلے دو چوکیوں پر حملہ کر کے نو پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق نگران دور میں ہونے والے تبادلوں اور تقرریوں کے باعث یہاں پولیس کی گرفت کمزور ہوئی ہے۔

ڈاکوں کے گروہ کے سرغنہ غلام رسول عرف چھوٹو مزاری کا تعلق اسی علاقے سے ہے اور یہ کئی برس سے اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔

چھوٹو مزاری کے سر کی قیمت 20 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔

آر پی او ڈی جی خان عمر حیات لالیکا کے مطابق یہ خالصتاً ایک جرائم پیشہ افراد کا گروہ ہے تاہم کالعدم تنظیموں سے ان کے رابطوں کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

کچے کا یہ علاقہ کئی میل لمبا ہے اور بلوچستان، پنجاب سے ہوتا ہوا سندھ میں سکھر تک چلا جاتا ہے۔