کراچی میں راشن کی تقسیم کے دوران بھگدڑ

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں راشن کی تقسیم کے دوران بھگدڑ سے کم سے کم دو خواتین ہلاک اور بارہ سے زائد زخمی ہوگئی ہیں۔
حکام کے مطابق یہ واقعہ گلشن اقبال کے علاقے نیپا چورنگی میں پیش آیا ہے۔
ماہ رمضان سے قبل شہر میں کئی فلاحی ادارے غریبوں میں مفت راشن تقسیم کرتے ہیں۔
ایک مذہبی ادارے کی جانب سے نیپا میں ایک شادی ہال میں راشن کی تقسیم کا انتظام کیا گیا تھا، جہاں پیر کی صبح سے ہی خواتین کی آمد شروع ہوگئی۔
<link type="page"><caption> راشن کے لیے بھگدڑ، سولہ خواتین ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/09/090914_atta_deaths.shtml" platform="highweb"/></link>
خواتین کا کہنا کے وہ قطار میں اندر داخل ہو رہیں تھیں کہ پیچھے سے دھکا لگا، جس سے کئی خواتین نیچے گرگئیں ان کی چیخوں پر بھگدڑ مچ گئی۔
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ایس ایس پی عمران شوکت کا کہنا ہے کہ ایک مذہبی فلاحی ادارے نے راشن تقسیم کا انتظام کیا تھا لیکن اس کے بارے میں پولیس کو آگاہ نہیں کیا گیا ، پولیس کے مطابق بھگدڑ میں دو خواتین ہلاک ہوگئی ہیں۔
بھگدڑ کے بعد راشن کی تقسیم بند کر دی گئی، لیکن خواتین ایک بڑی تعداد وہاں موجود رہی، جیسے ہی دوبارہ تقسیم کا آغاز کیا گیا تو کچھ خواتین نے آگے بڑھ کر اپنے طور پر سامان اٹھانا شروع کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے خواتین رضاکار موجود نہیں تھیں اس لیے خواتین کی اتنی بڑی تعداد کو کنٹرول میں رکھنا مشکل ہوگیا۔
منتظمین کی جانب سے خواتین کو خالی تھیلے دکھا کر یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ اب ان کے پاس مزید راشن دستیاب نہیں لیکن اس کے باوجود خواتین وہاں موجود رہیں۔
کراچی میں سال دو ہزار نو میں ماہ رمضان کے دوران شہر کی اناج منڈی کھوڑی گارڈن میں مفت راشن کی تقسیم کے دوران بھگدڑ مچ گئی تھی جس کے نتیجے میں اٹھارہ خواتین ہلاک ہوگئیں تھیں۔
سندھ حکومت نے واقعے کے حقائق جاننے کے لیے تحقیقاتی ٹریبونل قائم کیا تھا جس نے اٹھارہ خواتین کی ہلاکت کا ذمہ دار متاثرین، مخیر شخص اور انتظامیہ کو قرار تھا۔







