سبی:انتخابی قافلے پر حملہ، 2 لیویز اہلکار ہلاک

بلوچستان میں انتخابی سرگرمیوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں تیزی آئی ہے
،تصویر کا کیپشنبلوچستان میں انتخابی سرگرمیوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں تیزی آئی ہے

پاکستان میں انتخابات کے انعقاد میں چھ دن باقی رہ گئے ہیں اور شدت پسندوں کی جانب انتخابی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

صوبہ بلوچستان میں ایسے ہی مختلف واقعات میں اتوار کو دو لیویز اہلکار ہلاک اور دو اہلکاروں سمیت 14 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

لیویز اہلکاروں کی ہلاکت کا واقعہ سبّی کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب دو آزاد امیدواروں کے قافلے پر ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ کیا گیا۔

سبی کے انتظامیہ کے مطابق ضلع کی صوبائی اسمبلی کی نشست پی بی 21 سے آزاد امیدوار سردار سرفراز خان ڈومکی اور ان کے چچا زاد بھائی اور قومی اسمبلی کی نشست این اے 265 سے آزاد امیدوار میر دوستین ڈومکی انتخابی مہم کے سلسلے میں سبی سے تلی گاؤں جا رہے تھے۔

جب وہ کرک نامی گاؤں کے قریب پہنچے تو ان کے قافلے کو ریموٹ کنٹرول بم حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے سے ان کے قافلے میں شامل وہ گاڑی تباہ ہوئی جس میں لیویز فورس کے اہلکار سوار تھے اور ان میں سے دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

لیویز کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور بھی ہلاک ہوا اور ایک کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا ہے۔

ادھر خاران میں مسلم لیگ (ن) کے انتخابی دفتر پر دستی بم کے حملے میں پانچ افراد زخمی ہوگئے۔

خاران پولیس کے مطابق شہر میں نامعلوم افراد نے مسلم لیگ (ن) کی قومی اسمبلی کی نشست سے امیدوار لیفٹینینٹ جنرل (ریٹائرڈ) عبدالقادر بلوچ کے دفتر پر دستی بم سے حملہ کیا ۔

اس حملے میں زخمی ہونے والوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ کوئٹہ سے جنوب مشرق میں مچھ کے علاقے میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے انتخابی دفتر کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ مچھ پولیس کے مطابق اس حملے میں پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

خود کوئٹہ شہر میں دیبہ کے علاقے میں جمیعت العلماء اسلام (نظریاتی) کے انتخابی دفتر پر دستی بم کے حملے میں دو افراد زخمی ہوئے۔