بھارتی قیدی سربجیت سنگھ ہسپتال میں دم توڑ گئے

بھارتی حکومت نے پاکستان سے اپیل کی تھی کہ وہ سربجیت سنگھ کو انسانی ہمددری کی بنیاد پر رہا کرنے پر غور کرے
،تصویر کا کیپشنبھارتی حکومت نے پاکستان سے اپیل کی تھی کہ وہ سربجیت سنگھ کو انسانی ہمددری کی بنیاد پر رہا کرنے پر غور کرے

پاکستان کے شہر لاہور کے جناح ہسپتال کے حکام کا کہنا ہے کہ جاسوسی کرنے اور پاکستان میں دھماکے کرنے کے الزام میں سزائے موت پانے والے بھارتی شہری سربجیت سنگھ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے ہیں۔

لاہور میں ہمارے نامہ نگار عباد الحق کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سربجیت سنگھ کا پوسٹ مارٹم جمعرات کو ہوگا۔ تا ہم یہ فیصلہ تاحال نہیں ہو سکا ہے کہ ان کی میت بھارتی حکومت کے حوالے کی جائے گی یا نہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب قاتلانہ حملے کا ایف آئی آر درج ہو جائے اور متاثرہ شخص کی موت واقع ہونے کی صورت میں پوسٹ مارٹم کرنا ایک قانونی تقاضا ہے۔

سپریم کورٹ بار کے عہدیدار اور فوجداری قوانین کے ماہر راجہ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ’اگر زخمی کی موت ہو جائے تو اس کی وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کرنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ پوسٹ مارٹم مقدمے کی تفتیش میں کارآمد ہوتی ہے۔‘

سربجیت سنگھ کی موت کے بعد جناح ہسپتال کے باہر پولیس کی نفری بڑھادی گئی ہے اور انہیں ہسپتال کے مردہ خانے میں منتقل کردیا گیا ہے۔

سربجیت سنگھ بائیس سال سے سزائے موت کے منتظر تھے اور لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے۔ جمعہ کو ان کے دو ساتھی قیدیوں نے ان پر حملہ کیا تھا جس میں وہ شدید زخمی ہوگئے تھے۔ ان کے سر، جبڑے، پیٹ سمیت جسم کے کئی حصوں پر زخم آئے تھے۔

وہ لاہور کے جناح ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیرِ علاج تھے جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت بدستور نازک تھی۔

پولیس نے سربجیت سنگھ پر حملے کا مقدمہ دو قیدیوں کے خلاف درج کرلیا ہے۔

کوٹ لکھت جیل کے حکام کی مدعیت میں درج ہونے والے مقدمے میں دو قیدیوں عامر اور مدثر کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمہ قاتلانہ حملے اور جیل ضابطے کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں میں درج کیا گیا ہے۔

سربجیت سنگھ پر حملہ کرنے والے دونوں قیدی عامر اور مدثر کو بھی موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سربجیت سنگھ کی ہلاکت کے بعد اب اس مقدمے میں نئی دفعات شامل کی جائیں گی۔

قانونی ماہر راجہ جاوید اقبال کے مطابق اس کیس کے تفتیشی افسر کے پاس اختیار ہے کہ وہ اس میں قتل کے دفعات شامل کرکے اس کی تحقیق کریں۔

بھارتی حکومت نے پاکستان سے اپیل کی تھی کہ وہ سربجیت سنگھ کو انسانی ہمددری کی بنیاد پر رہا کرنے پر غور کرے۔

واضح رہے کہ سربجیت سنگھ کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سنہ 1990 میں اُس وقت گرفتار کیا جب وہ لاہور اور دیگر علاقوں میں بم دھماکے کرنے کے بعد واہگہ بارڈر کے راستے بھارت فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

دوران تفتیش انہوں نے ان بم حملوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا جس پر انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے انہیں انیس سو اکیانوے میں موت کی سزا سُنائی تھی۔اس عدالتی فیصلے کو پہلے لاہور ہائی کورٹ اور بعد میں سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔

سربجیت کے ورثاء نے اُن کی معافی کے لیے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو درخواست دی تھی جسے انہوں نے رد کر دیا تھا اور انہیں مئی دو ہزار آٹھ میں پھانسی دی جانی تھی تاہم تین مئی کو حکومتِ پاکستان نے اس پھانسی پر عملدرآمد عارضی طور پر روک دیا تھا۔

سربجیت سنگھ سے ان کے گھر والوں یعنی بیوی، بہن اور دو بیٹیوں نے اٹھارہ سال کی طویل مدت کے بعد اپریل دو ہزار آٹھ میں پہلی بار جیل میں ملاقات کی تھی۔

سربجیت کے پاکستانی وکیل اویس شیخ نے اپنے موکل پر ایک کتاب بھی لکھی۔بھارت میں شائع ہونے والے اس کتاب کا ہندی میں بھی ترجمہ ہوا ہے۔