’ایسے حکمران چاہیئیں جو ہمارے لیے سوچیں‘

دوالمیال ایک ایسا گاؤں ہے جہاں تقریباً ہر گھر میں کم از کم ایک فرد کا پیشہ تو سپاہ گری رہا ہے
،تصویر کا کیپشندوالمیال ایک ایسا گاؤں ہے جہاں تقریباً ہر گھر میں کم از کم ایک فرد کا پیشہ تو سپاہ گری رہا ہے

’تبدیلی کیا ہے بس ایسے حکمران ہونے چاہیئیں جو ہمارے لیے سوچیں اور بس روٹی روزی مل جائے‘۔ یہ فوزیہ کے الفاظ ہیں جو دولمیال گاؤں میں رہتی ہیں۔

یہ گاؤں صوبہ پنجاب میں پوٹھوہار کے علاقے میں چکوال سے تقریباً تیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

توپ والےگاؤں کے نام سے مشہور دولمیال میں جانے کا ارادہ اس وقت بنا جب اسلام آباد سے چکوال پہنچنے پر میں نے جرنیلوں کے گاؤں جانے کی خواہش ظاہر کی۔

گاؤں میں داخل ہوتے ہی ایک گندے پانی کا تالاب ہے جس کے سامنے ایک توپ نصب ہے۔ تپتی دھوپ میں بھینسوں کے ساتھ تالاب میں نہاتے بچے فوراً بھانپ گئے کہ کوئی باہر سے آیا ہے۔ ہمیں دیکھتے ہی ہماری طرف دوڑے۔ سب کی کوشش تھی کہ وہ ہمیں توپ کی کہانی سنائیں مگر اس سے پہلے کہ وہ شرمانا بند کرتےگاؤں کے بڑوں نے کیمرہ دیکھتے ہی توپ سے متعلق اپنی کچی پکی معلوما ت دینا شروع کر دیں۔

یہ توپ پہلی جنگ عظیم کے دوران استعمال کی گئی تھی۔ جب جنگ ختم ہوئی تو بہادری کے صلے میں دولتِ مشترکہ کے ممالک کو دو توپیں بطور انعام اور یادگار دی گئیں۔ ایک توپ تو سکاٹ لینڈ گئی لیکن دوسری کی منزل دوالمیال کا یہ گاؤں ٹھہری جس کے 460 باسیوں نے انگریزوں کے شانہ بشانہ اس جنگ میں حصہ لیا تھا۔

دوالمیال ایک ایسا گاؤں ہے جہاں تقریباً ہر گھر میں کم از کم ایک فرد کا پیشہ تو سپاہ گری رہا ہے۔

یہاں کے بڑے بوڑھے زیادہ تعلیم یافتہ تو نہیں مگر میڈیا کے اہمیت سے خوب واقف ہیں۔ گھنٹوں لوڈشیڈنگ کے باوجود ان ریٹائرڈ حوالداروں اور صوبیداروں کا زیادہ وقت ٹی وی پر خبریں دیکھتے گزرتا ہے کیونکہ کھیتی باڑی کا موقع تو انہیں تب ہی ملتا ہے جب بارش برسے۔

سابق فوجیوں سے ملنے کی خواہش کی تو سبھی بولے ’جی یہاں تو ہر گھر فوجی کا ہے لیکن ہم آپ کے لیے اپنی برادری کے کسی بڑے کو بلاتے ہیں جو اچھا انٹرویو دے۔‘

جواباً یہ سن کر کہ ہم وہاں کسی اچھے انٹرویو کے لیے نہیں بلکہ ان کی بات سننے آئے ہیں لوگ حیران بھی ہوئے اور خوش بھی۔

اسی اثناء میں 73 سالہ حوالدار حاجی محمد اسلم نے اپنےگھر آنے کی دعوت دے ڈالی۔ عمر رسیدہ محمد اسلم کےگھر پہنچے تو انہوں نے فخریہ طور پر بتایا کہ ان کے خاندان کے گیارہ افراد فوج میں رہ چکے ہیں اور وہ خود تو 1971 کی جنگ کے بعد دو برس ڈھاکہ کی جیل میں قید بھی رہ چکے ہیں اور اب بھی موقع ملے تو وہ فوج کے لیے کام کرنا چاہیں گے۔

سیاست پر بات چھڑی تو بےروزگاری، لوڈشیڈنگ اور غربت سے تنگ محمد اسلم اور ان کے دوست سیاستدانوں سے خاصے نالاں نظر آئے۔

اسلم کا کہنا ہے کہ ’ٹی وی پر کہتے رہتے ہیں کہ آمروں کی وجہ سے جمہوریت نہیں آئی لیکن ہمیں تو چینی، آٹا، سستا پٹرول ان آمروں نے ہی دیا ہے۔ ان سیاستدانوں نے تو محض بدعنوانی، قوم سے غداری اور امریکہ سے دوستی کی ہے‘۔

لیکن سیاستدانوں سے یہ ناراضگی انہیں ووٹ دینے سے نہیں روک رہی۔ اسلم کے دو کمروں کے مکان کی چھوٹی سی بیٹھک گاؤں کے ایسے لوگوں سے بھری تھی جن میں سے بعض برادری کی مسلم لیگ نواز سے پرانی وابستگی پر فخر کرتے ہیں تو کچھ عمران خان کو ’صادق اور امین‘ سمجھتے ہیں۔

سیاست پر محمد اسلم اور ان کے دوستوں کے درمیان چھڑی بحث کا دم اس وقت ٹوٹا جب ہمارے لیے ان کی بہو فوزیہ چائے لے کر آئیں۔

یہ توپ پہلی جنگ عظیم کے دوران استعمال کی گئی تھی
،تصویر کا کیپشنیہ توپ پہلی جنگ عظیم کے دوران استعمال کی گئی تھی

اتنے مردوں میں مجھےدیکھ کر وہ بھی محفل کا حصہ بن گئیں۔ کئی مرتبہ ان سے بات کرنے کی کوشش کی مگر مرد حضرات یہ کہ کر ٹوک دیتے کہ ’یہ تو دن بھر بکریوں اور بچوں کے ساتھ مصروف ہوتی ہے اس کو کیا پتہ سیاست کا‘۔ لیکن میری ضد کے سامنے انہیں ہار ماننا پڑی۔

فوزیہ سے جب پوچھا کہ ووٹ کسے دیں گی تو بولیں ’جسے ہمارے برادری دے گی ظاہر ہے اسی کو ووٹ دیں گے‘۔ ان کی اپنے ووٹ کی اہمیت سے یہ ناواقفیت وہاں موجود مردوں کے چہروں پر مسکراہٹ لے آئی۔

لیکن جب میں نے فوزیہ سے پوچھا کہ خود ان کے لیے تبدیلی کیا ہے تو وہ خود بھی مسکرانے لگیں اور بولیں ’ٹی وی پر تو سبھی تبدیلی کی بات کرتے ہیں مگر ہمارے لیے تبدیلی یہی ہے کہ ایسے حکمران ہوں جو ہم غریبوں کا سوچیں لیکن ان سیاستدانوں کے دل میں کیا ہے یہ تو رب ہی جانتا ہے۔‘

جب واپسی کا ارادہ کیا تو محمد اسلم بولے ’بیٹا بہت شکریہ ہماری بات سننے کا۔ میرے جیسے بوڑھوں کو تو اب فوج بھی نہیں پوچھتی۔‘

میری اگلی منزل ضلع میانوالی کے دیہی علاقے ہیں جہاں یہ جاننے کی کوشش ہوگی کہ وہاں کے لوگ ان انتخابات سے کیا امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔