
ینگ ڈاکٹرز ایسو سی ایشن نے ڈاکٹروں کو تحفظ فراہم کرنے کی مانگ کی ہے۔
پشاور میں ڈاکٹروں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے ڈاکٹروں کی حفاظت کے لیے حکومت سے سی ایم ایچ کی طرز پر تمام ڈاکٹروں کے لیے سکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پشاور میں بارہ دنوں میں دو ڈاکٹروں کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر ڈاکٹر عالمگیر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کل حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ڈاکٹروں کو سکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کریں گے۔
ڈاکٹر عالمگیر نے کہا کہ اس وقت ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی حفاظت کے لیے اردلی ہیں جن کا بنیادی کام ٹرالیز کو لانا اور لے جانا ہے جبکہ ڈاکٹروں کی حفاظت کے لیے نہ تو سرکاری ہسپتالوں میں اور نہ ہی نجی ہسپتالوں اور کلینکس کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ڈاکٹروں نے حکومت کو ایک سکیورٹی پلان بھیجا ہے جسے حکومت منظور نہیں کر رہی ہے۔ اس سکیورٹی پلان میں صوبے کے تمام ہسپتالوں کے لیے ریٹائرڈ فوجی یا ریٹائرڈ پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے علاوہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں۔
ڈاکٹر عالمگیر کے مطابق پشاور کا ڈبگری کا علاقہ ڈاکٹروں کا بڑا مرکز ہے جہاں بیشتر پروفیسر اور دیگر سینیئر ڈاکٹرز اپنے نجی کلینکس اور ہسپتالوں میں بیٹھتے ہیں اس لیے اس علاقے میں بھی مکمل سکیورٹی فراہم کی جانی چاہیے۔
پشاور میں ماہر امراض چشم ڈاکٹر شاہ نوازعلی کی ہلاکت کے خلاف آج حیات آباد میڈیکل کملیکس میں ڈاکٹروں نے او پی ڈی کا بائئکاٹ کیا ہے جبکہ کل لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں احتجاجی مظاہرہ کیا جانے والا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے سے پشاور سمیت پورے صوبہ خیر پختونخوا میں ڈاکٹروں کو اغوا اور انہیں قتل کیا جا رہا ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے دو ہفتوں سے کم وقت میں صرف دو ڈاکٹروں کا قتل ہی نہیں ہوا ہے بلکہ اس سے پہلے ڈاکٹروں کو اغوا اور ان پر تشدد کے واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔






























